آبنائےہرمزکھولوں پھرجنگ بندہوگی،ڈونلڈٹرمپ کاایران کودوٹوک جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے موجودہ حکام نے ان سے جنگ بندی کے لیے درخواست کی ہے تاہم واشنگٹن اس تجویز پر صرف تب غور کرے گا جب آبنائے ہرمز کو کھلا، آزاد اور محفوظ حالت میں بحال کیا جائے گا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے حالیہ مختصر بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس کے کھلنے پر ہی امریکا جنگ بندی پر غور کرے گا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے حالیہ مختصر بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس کے کھلنے پر ہی امریکا جنگ بندی پر غور کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تکمیل تک جاری تنازعے میں دباؤ اور عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی، اور ایران کو پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران کے ساتھ جاری جنگ سے باہر آ سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ امریکا زیادہ عرصہ ایران میں نہیں رہے گا اور جنگ کا مقصد قریباً حاصل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا اصل ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، جو پورا ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ امریکا اپنی مرضی سے جنگ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایسے تمام آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے بغیر کسی معاہدے کے بھی فوجی کارروائی روکی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ امریکا بعض مذاکراتی کوششیں کر رہا ہے لیکن ایران نے کوئی رسمی مذاکرات یا معاہدہ قبول نہیں کیا اور جنگ بندی کی پیش کش کو مسترد کیا ہے اور اپنے مطالبات میں جنگ کے مکمل خاتمے، آئندہ حملوں کی گارنٹی اور دیگر شرائط شامل کی ہیں۔

Back to top button