کیا ترامیم کے بعد صدر آصف زرداری سپریم کمانڈر رہیں گے؟

اگرچہ 27ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بھی بنا دیا گیا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا صدر مملکت آصف علی زرداری کی حیثیت بدستور سپریم کمانڈر مسلح افواج برقرار رہے گی یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ نئی آئینی ترامیم کے بعد صدر مملکت کی بجائے فیلڈ مارشل بطور چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بن جائیں گے۔
یاد رہے کہ صدر مملکت آئین کے تحت پاک افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہوتے ہیں اور عسکری تقرریوں کی منظوری کے لیے فائلیں صدر کے ہی دستخط سے مکمل ہوتی ہیں۔ اگرچہ اس منصب کو عمومی طور پر رسمی قرار دیا جاتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف بھی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کو گزشتہ روز “رسمی” کہہ چکے ہیں، تاہم آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کی منظوری کے وقت وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ واضح کیا کہ ترمیم کا مقصد آرمی چیف کو ’’چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ بنانا اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرنا ہے۔ اس کے باوجود ترمیم میں صدر مملکت کے بطور سپریم کمانڈر کردار سے متعلق کوئی شق شامل نہیں کی گئی، جس نے اس ابہام کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ مستقبل میں اس منصب کی عملی حیثیت کیا باقی رہے گی۔
صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی، مگر تازہ ترین تبدیلیوں نے سیاسی و آئینی حلقوں میں یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ جب ایوانِ صدر میں 18ویں ترمیم کے پارلیمنٹ کے اختیارات بحال کرنے والا صدر موجود ہے، تو دوسری طرف وہی پارلیمنٹ اپنے اختیارات فوجی جرنیلوں کو کیوں منتقل کرتی چلی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں تبدیلیوں کے بعد پاکستانی فوجی قیادت کا ڈھانچہ بنیادی طور پر بدل گیا ہے۔ ان ترامیم کے نتیجے میں جنرل عاصم منیر بیک وقت تین کلیدی عہدوں یعنی آرمی چیف، فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز پر فائز ہو چکے ہیں، اور ان تینوں حیثیتوں کے تحت ان کے اختیارات کو از سرِ نو مرتب کیا گیا ہے۔ آرمی چیف کے طور پر وہ بدستور بری افواج کی کمان کے ذمہ دار ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل کے طور پر انہیں وہ فائیو سٹار رینک دیا گیا ہے جسے آئینی ترمیم نے اعزازی سے بڑھا کر مستقل حیثیت دے دی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر انہیں تینوں مسلح افواج کی مشترکہ حکمت عملی ور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ڈھانچے کی سربراہی بھی سونپ دی گئی ہے، جس کے بعد یہ عہدہ پاکستان میں تمام تر عسکری اختیارات کا مرکز بن چکا ہے۔
جنرل عاصم منیر کا 2030 تک آرمی چیف رہنے کا راستہ ہموار
دلچسپ امر یہ ہے کہ آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کے منصب پر فائز جنرل عاصم منیر کو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کے حکمنامے پر دستخط بھی صدر آصف علی زرداری نے کیے، اور یہ آئینی ترمیم بھی انہی کے دستخط سے آئین کا حصہ بنی۔ یہاں یہ یاد کروانا ضروری ہے کہ صدر آصف علی زرداری دوسری مرتبہ صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، اپنے پہلے دور صدارت کے دوران انہوں نے وہ تمام ترامیم 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرائی تھیں جو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے کر کے پارلیمنٹ کے اختیارات چھین لیے تھے۔ صدر آصف زرداری کے ایما پر ہونے والی 18ویں ترمیم نے پارلیمنٹ کی بالادستی بحال کی اور صدر کے صوابدیدی اختیارات محدود کیے۔ یوں آج اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں وہ صدر بیٹھا ہے جو پارلیمانی نظام اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کھلا یقین رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس میں ایسا شخص براجمان ہے جو اپنے ہاتھوں سے پارلیمنٹ کو مذید کمزور اور مسلح افواج کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
