ٹی ٹی پی نے اغوا شدہ کرنل کی رہائی کے بدلے ساتھیوں کی رہائی مانگ لی

28 اگست کو ڈیرہ اسماعیل خان سے فوج کے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل اور ان کے دو بھائیوں کو اغوا کرنے والوں نے مغویوں کی رہائی کے بدلے تحریک طالبان پاکستان کے کچھ زیر حراست جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے فوجی اور سویلین حکام ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔ اس سے پہلے اغوا کاروں نے مغوی کرنل اور ان کے بھائی کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے حکومت پاکستان سے طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ انہیں رہائی نصیب ہو سکے۔

یاد رہے کہ 28 اگست 2024 کی شام لیفٹیننٹ کرنل خالد امیر اپنے والد کی تدفین کے بعد بھائیوں کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کی ایک مسجد میں تعزیت کرنے والوں کے ساتھ موجود تھے جب تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے 16 مسلح افراد نے انہیں اغوا کیا۔ کرنل خالد اپنے 80 سالہ والد کی تدفین کے لیے انکا جسد خاکی لے کر اسلام آباد سے کلاچی پہنچے تھے اور آبائی قبرستان میں تدفین کے بعد اگلی صبح انہیں واپس جانا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق سب لوگ مسجد میں فاتحہ خوانی کےلیے بیٹھے ہوئے تھے جب مسلح افراد اندر داخل ہوئے اور آواز لگائی کہ کوئی بھی بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے بعد لیفٹیینٹ کرنل خالد امیر، آصف امیر، فہد امیر اور ان کے ایک رشتہ دار ابرار کو اسلحے کی نوک پر اغوا کرلیا گیا۔ اس اغوا کا کیس تحریک طالبان پاکستان کے گنڈہ پور گروپ سے تعلق رکھنے والے نامعلوم افراد کے خلاف درج ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ کلاچی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا آبائی علاقہ ہے جس کے ایک جانب جنوبی وزیرستان اور دوسری جانب بلوچستان کی سرحد کے قریب ہی موجود ہے۔ صوبے کے جنوبی اضلاع میں حالیہ دنوں میں اغوا اور ڈکیتی جیسے جرائم سمیت شدت پسندی کے واقعات میں بھِی اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن حکومت اور سکیورٹی فورسز ان وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔

طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے فوجی کرنل کی ویڈیو میں کیا ہے؟

کلاچی میں موجود مغویوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ اغوا ہونے والوں میں لیفٹیننٹ کرنل خالد، ان کے بھائی اسسٹنٹ کمشنر آصف خان، انکے ایک اور بھائی فہد خان اور ان کے ایک بھانجے شامل ہیں جو سکول میں پڑھاتے ہیں۔ تینوں بھائی ایک سابق سکول استاد امیر خان کے بیٹے ہیں جو اسلام آباد میں وفات پا گئے تھے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کلاچی اور اس کے قریبی علاقوں میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور عموما اغوا کار تاوان لے کر مغویوں کو رہا بھی کر دیتے ہیں۔ اس واقعے سے کچھ عرصہ پہلے طالبان نے ایک سیشن جج کو بھی اغوا کیا تھا لیکن اسے تاوان کے بدلے رہا کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کلاچی میں ایک کار میں سوار تین ججوں پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ججز خود تو محفوظ رہے تھے لیکن ان کی حفاظت پر معمور دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ کلاچی، دراب اور ٹانک میں اغوا کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس پر بھی متعدد حملے ہوئے ہیں۔

کرنل خالد امیر اور ان کے بھائیوں کو اغوا کرنے والوں نے ان کی ویڈیوز بھی ریلیز کی ہیں جس میں دونوں بھائی حکام سے طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ انہیں رہائی مل سکے۔ ویڈیو میں لیفٹینینٹ کرنل خالد امیر کو سفید کپڑے پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دن کے وقت فلمائی جانے والی اس ویڈیو کے پش منظر میں سیاہ رنگ کا کپڑا نظر آتا ہے جبکہ دو افراد کو اسلحہ ہاتھوں میں لیے پشت پر کھڑے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان افراد کے چہرے نہیں دیکھے جا سکتے۔ تاہم ابھی تک فوجی اور سویلین حکام کی جانب سے کرنل خالد امیر اور ان کے بھائیوں کی رہائی کی خاطر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

Back to top button