اقوام متحدہ نے بھی TTPکو دنیا کیلئے خطرہ قرار دے دیا

اقوام متحدہ نے بھی ٹی ٹی پی بارے پاکستانی خدشات کی تصدیق کر دی، اقوام متحدہ نے افغان طالبان کی پشت پناہی سے مضبوط ہونے والی ٹی ٹی پی کو پاکستان سمیت پوری دنیا کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا، اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی محفوظ ٹھکانوں، آپریشنل آزادی اور القاعدہ جیسے بین الاقوامی گروہوں کے ممکنہ تعاون سے اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے، افغان حکومت کے تعاون کی وجہ سے ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں، خصوصاً ٹی ٹی پی کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے خطے میں علاقائی کشیدگی بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 2025 میں ٹی ٹی پی سے منسوب 3,500 سے زائد حملوں میں سے تقریباً 2,100 حملے دوسری ششماہی میں ریکارڈ کیے گئے۔ افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں جیسے کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیکا، برمل اور پکتیا میں ٹی ٹی پی کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی، جہاں نئے یا توسیع شدہ تربیتی مراکز قائم کیے گئے، جو اکثر حقانی نیٹ ورک کے زیر اثر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی جانب سے مختلف قسم کی معاونت حاصل ہے، جس میں محفوظ گھروں تک رسائی، سینیئر رہنماؤں کے لیے گیسٹ ہاؤسز، نقل و حرکت کی اجازت، ہتھیاروں کے اجازت نامے اور لاجسٹک مدد شامل ہیں۔ اس تعاون کے باوجود بعض طالبان رہنما پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے سبب ٹی ٹی پی کو ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں، مگر اس کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی معاوت کا سلسلہ برقرار ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد دہشتگرد موجود ہیں، اور یہ گروہ افغان طالبان کی صفوں سے مزید بھرتیاں کر رہا ہے، جس سے اس کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی القاعدہ سے منسلک گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وسیع تر اہداف پر حملے کیے جا سکتے ہیں اور خطرہ پاکستان سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔ جو خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ القاعدہ جنوب مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے جہاں حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ کافی مضبوط ہے۔ جبکہ دوسری جانب داعش خراسان پر مسلسل انسداد دہشت گردی کے دباؤ کے باوجود وہ بیرون ملک دہشتگردانہ کارروائیوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی رسائی بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کی سامنے آںے والی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے زیر کفالت ٹی ٹی پی ایک طاقتور دہشت گرد گروہ کے طور پر کام کر رہی ہے، جہاں نہ صرف اسے محفوظ ٹھکانے اور مکمل پشت پناہی حاصل ہے بلکہ مالی معاونت اور جدید اسلحہ بھی دستیاب ہے جس کی وجہ سے ٹی ٹی کی پاکستان میں کی جانے والی دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اقوم متحدہ کی رپورٹ میں واضح طور پر اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر اب بھی ٹی ٹی پی کو پٹہ نہ ڈالا گیا تو افغان طالبان کی سرپرستی اور القاعدہ جیسے بین الاقوامی گروہوں سے ممکنہ تعاون کی وجہ سے ٹی ٹی پی پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
