24 نومبر کا ناکام احتجاج الٹا کپتان کے گلے پڑ گیا

تحریر: حسن نقوی
اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی فائنل کال ناکامی کا شکار ہونے کی وجہ سے الٹا کپتان کے گلے پڑ گئی ہے۔ جیل سے رہائی پانے کے بعد سیاسی میدان میں کودنے والی عمران خان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی عرف پنکی پیرنی کی جانب سے اس احتجاج کی کال کو ایک فیصلہ کن لمحہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، لیکن اس کی ناکامی نے سیاست میں نووارد بشری بی بی اور ان کے شوہر کے سیاسی تابوت میں آخری کیل کا کام کیا ہے۔
کئی ہفتوں کی تیاریوں اور بلند دعوؤں کے باوجود پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کوئی ایک بھی قافلہ احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ نہ ہوا، جس سے پی ٹی آئی کی عوامی طاقت میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ پچھلے تین ماہ میں عمران کی جماعت نے احتجاج کی جتنی بھی کالز دیں وہ بری طرح ناکامی کا شکار ہوئیں لہذا مایوسی کے شکار پارٹی ورکرز نے اس مرتبہ باہر نکلنے کا سوچا ہی نہیں۔
علی امین گنڈا پور کی زیر قیادت پشاور سے جو قافلہ 24 نومبر کو احتجاج کے لیے اسلام اباد کی جانب روانہ ہوا تھا وہ ابھی تک راستے میں ہے اور مسلسل پڑاؤ ڈالتا چلا جا رہا ہے۔ اس بار پی ٹی آئی کے حامیوں میں جوش و خروش کی کمی واضح ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کو امید تھی کہ ایک بڑا عوامی مظاہرہ ان کے سیاسی بیانیے کو نئی زندگی دے گا، لیکن یہ احتجاج حکومت کے خلاف چیلنج کرنے کی پارٹی کی گھٹتی ہوئی صلاحیت کو نمایاں کر گیا۔ مبصرین کے مطابق، انتظامی رکاوٹیں، رابطے کی کمی، اور عوامی عدم دلچسپی احتجاج کی ناکامی کے اہم عوامل رہے۔
اس کے برعکس، وزیر داخلہ محسن نقوی دارالحکومت کی حفاظت اور امن و امان کو یقینی بنانے میں ایک مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ محسن نقوی، جو اپنی فعال طرز حکمرانی کے لیے مشہور ہیں، نے خاص طور پر بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے اہم سرکاری دورے کے دوران اسلام آباد کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی قیادت نے یقینی بنایا کہ مارچ شہر کی سرگرمیوں یا سفارتی معاملات میں خلل ڈالے بغیر مکمل ہو۔
محسن نقوی کی ہدایت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا، جس نے مظاہرے کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھا اور غیر ضروری محاذ آرائی سے اجتناب کیا۔ یہ مضبوط مگر متوازن حکمت عملی حکومت کی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عوامی امن و امان کو برقرار رکھے گی اور ساتھ ہی قانونی سیاسی اظہار کو دبانے سے گریز کرے گی۔ ان کوششوں کی کامیابی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ممکنہ طور پر کشیدہ صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کر لیا گیا۔
ریاست بمقابلہ عمران خان اور دو نمبر انقلابی
24 نومبر کے واقعات پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک فیصلہ کن لمحہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں پی ٹی آئی اپنی حیثیت بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، وہیں حکومت کے اس صورتحال کو مضبوطی سے سنبھالنے نے اس کی اتھارٹی کو تقویت دی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے فیصلہ کن اقدامات نے نہ صرف دارالحکومت کو محفوظ رکھا بلکہ سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ان کی مہارت کو بھی اجاگر کیا
