امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاریاں مکمل کرلیں

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کا واضح امکان موجود ہے، کیونکہ وینزویلا کے بعد اب واشنگٹن ایرانی تیل کے ذخائر پر قابض ہو کر دنیا بھر میں تیل کی تجارت پر مکمل اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد جمہوریت کا فروغ نہیں بلکہ قدرتی وسائل، بالخصوص تیل اور معدنیات پر کنٹرول ہے اور اسی لیے اس نے ایران پر حملے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے کوئی منافقت دکھائے بغیر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ دنیا کی واحد سپر پاور کو کسی ملک میں جمہوری نظام کے قیام یا استحکام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ صرف ان ممالک میں سرگرم عمل ہوتا ہے جہاں قدرتی وسائل موجود ہوں، اور ان وسائل کے تحفظ کے لیے وہ ایسے ممالک کے عوام کو جابر حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
نصرت جاوید کے مطابق سوویت یونین کے قرب و جوار میں واقع ایک ریاست کے طور پر پاکستان میں جمہوریت کو کمزور رکھنے کے لیے جنرل ایوب خان جیسے فوجی حکمران کی پشت پناہی کی گئی۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایوب خان کی غیرمعمولی پذیرائی نے انہیں یہ خوش فہمی دلائی کہ امریکہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی مدد کرے گا، تاہم 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے غیر جانبداری اختیار کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔
بعد ازاں معاہدہ تاشقند کے ذریعے سوویت یونین نے ثالث کا کردار ادا کیا، جس سے ایوب خان شدید دل برداشتہ ہوئے۔ یہی نہیں، ان کے اپنے لگائے ہوئے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے بھی اقتدار سنبھال لیا۔ اگرچہ جنرل یحییٰ امریکہ کے لیے چین اور امریکہ کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں کا ذریعہ بنے، مگر اس کے باوجود وہ پاکستان کو متحد نہ رکھ سکے۔ 1971 کی جنگ میں بھی امریکہ نے پاکستان کی عملی مدد کے بجائے محض زبانی بیانات پر اکتفا کیا اور ملک دولخت ہو گیا۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ نے کبھی دنیا کے کسی ملک میں جمہوری تحریکوں کی مخلصانہ حمایت نہیں کی۔ ان کے بقول اگر کسی ملک میں ملاوٹ کے بغیر جمہوریت کے لیے ہونے والی جدوجہد کو امریکی سرپرستی حاصل ہو جائے تو وہ تحریک مضبوط ہونے کے بجائے کمزور پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں لبنان میں حزب اللہ کو نقصان اور شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے براہ راست فوجی دباؤ اور جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، اس کے نتیجے میں ایران دفاعی اور معاشی طور پر کمزور دکھائی دینے لگا۔ ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ نے ملک بھر میں معاشی بحران کو جنم دیا، بازار بند ہوئے اور مظاہرے شروع ہو گئے۔
ایران میں مظاہروں کی بنیادی وجہ معاشی بدحالی تھی، مگر امریکہ اور اسرائیل نے اسے جمہوریت کی تحریک قرار دے کر اس کی کھلی حمایت شروع کر دی۔ یہاں تک کہ سابق شاہ رضا شاہ کے بیٹے نے بھی ایران واپسی کے خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ تاہم نصرت جاوید کے مطابق ایران کے عوام کی اکثریت شدید قوم پرست ہے اور وہ کسی بیرونی طاقت کے ذریعے اپنے نظام سے آزاد ہونا قبول نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق ایرانی صدر نے بھی عوام کی وطن دوستی اور شعور پر اعتماد کرتے ہوئے ریاستی جبر سے گریز کیا، جس کے باعث ایران میں نظام کے فوری خاتمے کا تاثر زائل ہو گیا۔
مشرف کا ‘کارگل مس ایڈونچر’ ہزاروں فوجی جوانوں نے کیسے بھگتا؟
تاہم نصرت جاوید خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ اس پر بھی باز نہیں آئے گا۔ وینزویلا کے بعد اب اس کی نظریں ایران کے قدرتی وسائل پر ہیں تاکہ عالمی سطح پر تیل کی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
انکے مطابق اب دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے اگلی چال کیا چلتا ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں وسائل ہوں وہاں امریکی مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے، چاہے اس کی قیمت علاقائی عدم استحکام اور عالمی کشیدگی کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
