امریکی صدرنےفلسطین کے2ریاستی حل کی حمایت کردی

امریکی صدرجو بائیڈن نےمسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی حل ہے۔فلسطنیوں کو اپنی ریاست میں رہنے کاحق ملناچاہئے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےبطورامریکی صدراپنا آخری خطاب کرتےہوئے جو بائیڈن نےکہا کہ کسی بھی ملک کوحق ہے کہ وہ یقینی بنائےکہ اس پردوبارہ حملہ نہ ہو، دنیا7اکتوبر کےہولناک واقعات کو کبھی نظراندازنہیں کرسکتی۔
امریکی صدرجو بائیڈن نےکہا ہےکہ غزہ میں جنگ بندی معاہدےکی فوری ضرورت ہے۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ کسی کے حق میں نہیں۔مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی حل ہے۔فلسطنیوں کواپنی ریاست میں رہنےکاحق ملنا چاہئے۔غزہ میں جنگ بندی معاہدےکی فوری ضرورت ہے۔غزہ کی صورتحال خراب ہےلیکن سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔
جو بائیڈن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ کسی کےحق میں نہیں۔غزہ میں ہزاروں شہری اوراسرائیلی قیدیوں کےاہلخانہ سخت مشکل سےگزررہے ہیں۔
امریکی صدرنےاپنےخطاب میں مزید کہا کہ امریکاسلامتی کونسل کی توسیع کےحق میں ہے، اقوام متحدہ کودنیا میں امن قائم کرنےکےاپنے بنیادی کام کی طرف لوٹنا پڑے گا۔
اسرائیل کی لبنان پربمباری نہ رک سکی،558افرادشہید،1600سےزائدزخمی
جو بائیڈن نےکہا کہ مصنوعی ذہانت نےہماری زندگی بدل دی ہےہمیں اس ٹیکنالوجی کااستعمال ذمہ داری سےکرنا ہوگااور اسے محفوظ بناناہوگا۔مصنوعی ذہانت کواچھےاوربرے دونوں کاموں میں استعمال کیاجارہاہے۔مصنوعی ذہانت کیلئےعالمی قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔
