شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے یوتھیے کا سراغ مل گیا

جیو نیوز سے وابستہ معروف ٹیلی ویژن اینکر شاہزیب خانزادہ اور ان کی اہلیہ کو بیرون ملک ہراساں کرنے والے یوتھیے کا سراغ مل گیا اور اس کی شناخت تحریک انصاف کے ایک ورکر شاہد بھٹی کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق گجرانوالہ سے ہے لیکن وہ کینیڈا میں رہائش پذیر ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں بیرونِ ملک ایک شاپنگ مال میں جیو نیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ اور ان کی اہلیہ رشنا خان کو ایک شخص کی جانب سے ہراسانی کا نشانہ بنتے دیکھا گیا۔ اگرچہ ویڈیو میں اس شخص کا چہرہ واضح نہیں تھا، تاہم اب اس گنجے کی شناخت ہوچکی ہے۔ سینئیر صحافی زاہد گشکوری کے مطابق یہ شخص شاہد بھٹی ہے، جو تحریکِ انصاف کا کارکن ہے، بھٹی گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں بطور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کام کرتا ہے۔ گشکوری کے مطابق کینیڈا میں پاکستانی مشن نے اس کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ اس کے دو مزید ساتھیوں کا سراغ بھی لگایا جا رہا ہے اور تینوں کے خلاف سخت ترین کارروائی متوقع ہے۔
سوشل میڈیا پر شاہد بھٹی کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شاہزیب خانزادہ کے قریب آکر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “آپ نے عمران خان کے خلاف جو کیا، اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے”۔ وہ بشریٰ بی بی کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشی کرتا رہا۔ اس دوران شاہزیب کی اہلیہ رشنا خان نے اس شخص سے کہا کہ یہ “ہراسانی” ہے، جس پر شاہد بھٹی نے کہا کہ وہ اسے ہراسانی نہیں بلکہ "بات چیت” سمجھتا ہے۔
اس واقعے کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی گئی اور اسے ایک سینیئر صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ اور نجی زندگی پر حملہ سمجھا گیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اختلافِ رائے کا مطلب کسی کی فیملی کو ہراساں کرنا نہیں۔ دیگر صحافیوں اور دانشوروں نے بھی کہا کہ یہ رویہ خطرناک حد تک عدم برداشت کی علامت ہے، جو گزشتہ چند برسوں میں پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں میں نمایاں طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد یہ مسئلہ بھی نمایاں ہوا کہ شاہزیب خانزادہ پر ہراسانی کرنے والے حلقے انہیں کیوں نشانہ بنا رہے ہیں، جب کہ ان کا صحافتی ریکارڈ غیر جانب داری اور شواہد پر مبنی رپورٹنگ سے عبارت ہے۔ شاہزیب خانزادہ اپنے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں ہر حکومتی دور میں طاقت کے مراکز، سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور کاروباری طبقات کے خلاف تحقیقاتی رپورٹس لاتے رہے ہیں۔ انہوں نے پاناما لیکس کے دوران شریف خاندان سے سخت سوال کیے، عمران خان کے دورِ حکومت میں احتساب کے غیر شفاف طریقۂ کار پر بارہا شواہد کے ساتھ پروگرام کیے، اور موجودہ اتحادی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی مسلسل تنقید کی۔ ان کے پروگرام میں ہمیشہ حکومتی اور اپوزیشن دونوں کا موقف پیش کیا جاتا ہے، اور ان کی ٹیم کو تحقیقی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے میڈیا میں “فیکٹ بیسڈ جرنلزم” کا مرکزی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بشری بی بی کے جس عدت کیس کا حوالہ دے کر شاہزیب کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس میں انہوں نے صرف عدالتی کارروائی اور جج کے تبصروں کی بنیاد پر گفتگو کی تھی۔ انہوں نے بشری بی بی کے سابقہ شوہر خاور مانیکا کے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ایک سابق شوہر کے طور پر وہ بشری بی بی پر “شرمناک حد تک ذاتی حملے” کر رہے ہیں۔ خانزادہ نے سوشل میڈیا پر اپنی ہراسانی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وضاحت دی کہ انہوں نے اپنے ٹی وی پروگرام میں بشری بی بی کے حوالے سے خود کوئی گفتگو نہیں کی تھی بلکہ عدالتی کارروائی دوہرا رہے تھے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک سینئیر صحافی حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرے اور اس کے باوجود اسے ہراساں کیا جائے تو یہ رجحان نہ صرف صحافت بلکہ معاشرتی مکالمے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ناقدین کے مطابق اس واقعے نے یہ ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف کے حامیوں میں اختلافِ رائے برداشت نہ کرنے کا کلچر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ ان کی ٹریننگ ہے کیونکہ عمران خان بھی تنقید برداشت نہیں کرتے اور فورا ذاتی حملوں پر اتر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ چند ہفتے پہلے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سخت سوال پر انہوں نے جی این این سے وابستہ سینیئر رپورٹر اعجاز احمد کے ساتھ سخت بدتمیزی کی اور اسے بے "شرم کالیا” کہہ کر شٹ اپ کال دے دی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈا میں شناخت کیے گئے شاہد بھٹی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی جاتی ہے، اور کیا تحریک انصاف اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل دے گی یا نہیں۔ سرکاری ذرائع کا اشارہ ہے کہ معاملہ سفارتی سطح تک پہنچ چکا ہے اور آئندہ چند دن اس سلسلے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
