بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے گٹھ جوڑ ہے،وزیردفاع

وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کی وجہ سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔

خواجہ آصف نے واضح کیاکہ یہ لوگ نہ تو حقیقی سیاسی ہیں اور نہ قوم پرست، بلکہ بنیادی طور پر ان کی تحریک کاروباری نقصان کے ازالے اور روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اسمگلنگ سے اربوں روپے کمانے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔

خواجہ آصف نے ایک بار پھر کہاکہ بلوچستان کے جغرافیے کی پیچیدگی کے باعث فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی تعیناتی ناگزیر ہے۔

Back to top button