پاکستان میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی نیچے گرنے کا خطرہ

ایکسچینج کمپنیز کی جانب سے آئی ایس آئی سے ڈالر سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے مدد طلب کیے جانے کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کی مربوط کارروائیوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، چند دن قبل بلیک مارکیٹ میں 293روپے میں ملنے والے ڈالر کی قیمت 283روپے پر آ گئی ہےجبکہ ایکسچینج کمپنیوں کا دعوی ہے کہ آگے ریاستی اداروں کی جانب سے ڈالر مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر کم ہو کر 250روپے سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔

 

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے تاہم اس معاملے پر مسلسل کڑی نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پا کر ڈالر ریٹ میں مزید کمی لائی جا سکے۔ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ڈالر کو 270 روپے سے 288 روپے تک آنے میں 2 سال لگے تھے لیکن اب ڈالر کو گرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔کیونکہ پہلے لوگوں کو لگتا تھا یہ وقتی کمی ہے لیکن اب لوگ یقین کرنے لگے ہیں کہ واقعی ڈالر گر رہا ہے۔ ملک بوستان نے دعویٰ کیا کہ ڈالر روپے کے مقابلے میں کچھ عرصے میں 270 روپے تک جائے گا تاہم ہماری کوشش رہے گی کہ یہ مزید گر کے 250 تک چلا جائے، ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اس وقت مارکیٹ میں ڈالر خریدنے والاکوئی نہیں آ رہا بلکہ سب ڈالرز بیچنے آرہے ہیں 15 سے 20 ملین ڈالر نہ بکنے کی وجہ سے ہم روزانہ بینکوں کو دے رہے ہیں۔ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹرز امید لگائے بیٹھے تھے کہ ڈالر 300 روپے تک چلا جائے گا لیکن ان کی امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں، کیونکہ حقیقتا ڈالر گر رہا ہے اور یہ مزید گرے گا اس لئے اب بھی جس کے پاس ڈالرز ہیں اس کے پاس وقت ہے کہ وہ ان ڈالرز کو بیچ دے

 

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ بینکوں اور کچھ ایکسچینج کمپنیز نے ملکر ڈالر کا ریٹ بڑھایا سکرین پر تو ڈالر کا ریٹ 285 روپے تھا تاہم مارکیٹ 293 میں بکتا رہا اس بات کو ہم نے جہاں ضروری تھا وہاں رکھا اور اس پر نہ صرف ایکشن ہوا بلکہ ڈالر نیچے آنا شروع ہوا ہے۔ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر اور بارڈرز پر ہر جگہ ڈالرز پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان اصلاحات کی وجہ سے  ڈالر بہت جلد 270 روپے کا ہو جائے گا۔

 

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت بارے ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ایران کی طرف ڈالر اسمگلنگ کافی عرصے سے جاری ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور بین الاقوامی پابندیوں کے بعد پاکستان سے افغانستان ڈالر اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاک افغان مرکزی گزرگاہ، طورخم بارڈر، کو ڈالر اسمگلنگ کا بنیادی راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور سے افغانستان ڈالر اسمگلنگ میں زیادہ تر افغان شہری ملوث ہوتے ہیں جو حوالہ ہنڈی کے ذریعے یہاں سے ڈالر لے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے طورخم بارڈر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اب سیکورٹی اداروں نے مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے طورخم بارڈر سے ڈالر کی سمگلنگ کو مکمل روک دیا ہے جس کے بعد ملک میں ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے۔

 

ایف آئی اے حکام کے مطابق اسمگلرز اکثر سرکاری اہلکاروں اور بارڈر پر موجود پورٹرز کو معمولی رقم کے عوض استعمال کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو ڈالر اسمگلنگ کا سب سے بڑا روٹ سمجھا جاتا ہے۔ جب بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔اسی وجہ سے جب بھی کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو طورخم بارڈر پر سب سے زیادہ سختی کی جاتی ہے۔ جس سے ڈالر کی قدر پر نمایاں فرق پڑتا ہے۔

Back to top button