خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ ہر شہری کا حق ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی تحاریک میں باہمی مشاورت ناگزیر ہوتی ہے، جب سب مل کر کوئی تحریک چلاتے ہیں تو اس کے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد ہمیشہ وقتی ضرورت کے تحت قائم ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ محسن نقوی مجھ سے ذاتی تعلق کی بنیاد پر ملنے آتے ہیں، ان کی حیثیت میرے لیے محض ایک برخوردار کی ہے اور وہ اس رشتے کی بنیاد پر ملاقات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سیاسی روابط رکھنا معمول کی بات ہے۔ پی ٹی آئی کبھی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کرتی ہے تو کبھی انکار کر دیتی ہے۔ موجودہ اپوزیشن میں بھی باہمی ہم آہنگی کا فقدان ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے سیاسی اختلاف ممکن ہے، لیکن تلخی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ ہمارے تحفظات دور کرے تو ہم سیاسی ماحول بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عمران خان کی جیل میں موجودگی پر مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم بھی اور نوازشریف بھی قید میں رہ چکے ہیں، لیکن کسی ایک شخص کی رہائی کو جماعت کا مرکزی مقصد بنانا سیاسی بصیرت کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے حق میں ہیں۔
سینیٹ ٹکٹوں پر اختلاف، ناراض پی ٹی آئی امیدواروں نے دستبردا ہونے سے انکار کردیا
مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، صوبائی حکمران مسلح گروپوں کو بھتے دے رہے ہیں، جب کہ کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ ہر شہری کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک شخص خود کو افلاطون سمجھتا ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔
