بسنت کے دوران سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر 2 ہزار روپے جرمانہ ہوگا : مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تین روزہ بسنت فیسٹیول )6 ،7 اور 8 فروری(کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت کے دوران عوام کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر دو ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔سیفٹی پلان عوام کو سزا دینے کےلیے نہیں بلکہ تحفظ کےلیے ہے۔
لاہور میں بسنت فیسٹیول کے جائزہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ بسنت کےلیے 10 لاکھ موٹر سائیکلوں کو فری سیفٹی وائرز لگا کردیے جائیں گے،بسنت کے 3 روز فری ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی، 2 کنٹرول روم بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھاکہ پتنگ بازی مذاق نہیں،عوام کی جان کے تحفظ کا معاملہ ہے،ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے ساتھ ہی بائیک کو آنے کی اجازت ہوگی، سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر دو ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں۔پنجاب کے عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے سپرد کردیا گیا،پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے لیکن عوام کو تفریح سے دور کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 30 سال بعد پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو شروع کیا،اس سال بھی منائیں گے،پنجاب میں آزادی کےساتھ سب کو خوشی منانے کا حق حاصل ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ موسم بہار کی آمد کی اطلاع دینےوالا بسنت کا خوبصورت تہوار 800سال قبل شروع ہوا،بسنت پنجاب کی ثقافت اور ورثہ ہے، دنیا پنجاب کے کلچر کو بہت اہمیت دیتی ہے۔پنجاب کے عوام کو بسنت کی خوش خبری دینا چاہتی ہوں، 6، 7 اور 8 فروری کو پہلی مرتبہ گورنمنٹ سپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منانے جا رہے ہیں،بسنت جیسے تہوار کا حادثات سے منسلک ہونا افسوس ناک ہے۔
مریم نواز نے کہاکہ شہریوں کی حفاظت کےلیے جامع سیفٹی پلان بنایاگیا،لاہور کو ریڈ،یلو اور گرین زون میں تقسیم کیاگیا ہے،لاہور میں 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈ لگارہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ بسنت کے تہوار کےلیے 2150 مینوفیکچر،ٹریڈرز،دکان داروں اور دیگر متعلقین کو رجسٹرڈ کیاگیا ہے،بسنت سے پہلے پتنگ بازی کرنے پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 گرفتار ہو چکے ہیں۔غیر قانونی طور پر بنائی اور فروخت ہونےوالی27 ہزار سے زائد پتنگیں بھی برآمد کرلی گئی ہیں،بسنت منانے کےلیے 10 ہزار سے زائد ضمانتی بانڈلیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ ہرصورت عوام کا تحفظ یقینی بنانا چاہتے ہیں، بسنت سیفٹی پلان عوام کو سزا دینے کےلیے نہیں بلکہ تحفظ کےلیے ہے۔بسنت کے دوران ڈور کی چرخی منع ہے،صرف پنا استعمال کیا جا سکتا ہے،پتنگ بازی کےلیے کاٹن کے 9 دھاگوں پر مشتمل ڈور ہی استعمال کی جاسکے گی،نائیلون اور دھاتی تار کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
انہوں نےکہا کہ مقررہ ساز سے بڑا پتنگ اور گڈا بھی اڑانےکی اجازت نہیں دی جائے گی،ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ 6، 7 اور 8 فروری کے علاوہ بسنت بازی پر جرمانہ اور قید کی سزادی جائےگی،غیرقانونی طور پر پتنگ بازی کرنےوالے والدین اور سرپرست ذمہ دار ہوں گے کیوں کہ انتظامیہ قانونی کارروائی کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ممنوعہ پتنگ بازی کے بارے میں اطلاع دینےپر انعام دیا جائےگا، 6، 7 اور 8 فروری کو پتنگ بازی کےلیے 35 انچ پتنگ اور 40 انچ کا گڈا استعمال کیا جا سکے گا،بسنت کے موقع پر ٹریفک کےلیے خصوصی پلان بھی تیار کیا گیا ہے، 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے۔بسنت پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کے علاوہ 40 ہزار پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی کریں گے جہاں ڈور پھرنے کے واقعات پیش آئے ان علاقوں کو ریڈ زون قراردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ بسنت ٹرانسپورٹ پلان کےتحت فری رائیڈ کی سہولت دیں گے، 500 بسیں چلارہے ہیں،اورنج لائن،میٹرو بس،الیکٹرو بس اور فیڈربس پر سفر مفت ہوگا،یانگوکے 6 ہزار رکشے اور 24 روٹ پر 60 ہزار رائیڈ میسر ہوں گی۔بسنت ٹریفک پلان کےتحت تمام چھوٹے بڑے روڈ اور راستے کور کیےگئے ہیں،فری رائیڈ کا مقصد بائیک کے استعمال سے روکنا اور نقصان سے بچناہے۔
گھریلو تشدد کے خلاف پارلیمنٹ سے قانون منظور
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیف سٹی اور کمشنر آفس میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیےگئے ہیں جہاں 24/7 ہائی الرٹ ہوگا، سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون کے ذریعے تین روزہ بسنت میں مانیٹرنگ کی جائے گی۔بسنت پر پولیس،فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ پلان بھی تشکیل دیاگیا ہے،عوام سے ڈس انفارمیشن یا افواہوں پر کان نہ دھرنےکی اپیل کرتی ہوں،بسنت عوام کی تفریح اور خوشی کےلیے ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاکہ 6 فروری کی رات بسنت فیسٹول کی لانچنگ کی جائے گی اور7 فروری کو باقاعدہ آغاز ہوگا۔
