روس سے ڈرنے والے نہیں ہیں

یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کیا کہ روس سے لڑنے کے لیے اُن کے ملک کو سب نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ بیلا روس کے راستے روسی فوجیں یوکرین میں داخل ہورہی ہیں اور دارالحکومت کیف میں پارلیمان سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ روس نے کیف کے ایئرپورٹ پر قبضے کا بھی دعویٰ کیا ہے تاہم یوکرینی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ قبضہ وزگزار کرالیا گیا ہے۔

اس صورت حال میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے تازہ بیان میں شکوہ کیا کہ عالمی برادری کو جس طرح مدد کرنا چاہیئے تھی اب تک نہیں کی گئی ہے۔ روس سے ڈرنے والے نہیں لیکن عالمی برادری نے جنگ کے لیے بالکل تنہا چھوڑ دیا ہے۔

روس کی پیشقدمی، یوکرائن میں 150 اموات، 300 زخمی

صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ آج صبح تک ہم اپنی سرزمین کا اکیلے ہی دفاع کر رہے ہیں جب کہ گزشتہ روز کی طرح آج بھی دنیا کے سب سے طاقتور ممالک دور سے بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر نے یہ بھی کہا کہ 25 سے زائد یورپی رہنماؤں سے نیٹو میں شامل ہونے سے متعلق پوچھا لیکن کسی نے بھی خوف کے باعث جواب نہیں دیا۔ اب تک کوئی بھی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روس کے ساتھ جنگ کے پہلے روز فوجیوں سمیت 137 افراد ہلاک ہوئے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں۔ روسی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

Back to top button