لیڈر کو رہا کروانے آئے تھے، کارکنوں کو گرفتار کروا کر بھاگ گئے : عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی فائنل کال مس کال ثابت ہوئی،شر پسند اپنی گاڑیاں،سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے، پی ٹی آئی نے اہم ثبوت مٹانے کےلیے کنٹینر کو خود آگ لگائی،علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے،اپنے لیڈر کو رہا کروانے آئےتھے، کارکنوں کو گرفتار کروا کر بھاگ گئے، علی امین کا نام گنڈا پور نہیں بلکہ بھگوڑا ہونا چاہیئے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہاکہ میڈیا دفاتر پر حملوں کی مذمت کرتا ہوں، شرپسند اپنی گاڑیاں،سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے، پی ٹی آئی والوں نےکنٹینر کو خود آگ لگائی،کنٹینر کےنیچے دستاویز کی راکھ ہے جس میں اہم منصوبہ بندی شامل تھی۔
عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ کنٹینر جو جلایا گیاہے اس کے نیچے کاغذوں کے ڈھیر ملےہیں، جن کا فرانزک کرایا جائےگا،کنٹینر کو اس لیے آگ لگائی اس میں اہم دستاویز اور ثبوت تھے،دستاویز میں تھا کہاں حملےکرنےہیں،کس کو ٹارگٹ کرناہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نےکہاکہ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، پی ٹی آئی والے اہم شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور فرار ہونے سےقبل تمام ثبوت خود جلا کر گئے ہیں،مظاہرین چپلیں،کپڑے اور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگے ہیں، بھاگنےوالوں کی گاڑیاں آپس میں ہی ٹکراگئیں۔
انہوں نےکہاکہ ہم ان کو لاشیں نہیں دینا چاہتےتھے خون خرابہ نہیں چاہتے تھے، ہمیں درست وقت کا انتظار تھا اور اس کےبعد چراغوں میں روشنی نہ تھی، ان کی نیت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے سیاسی بدنامی مقدر بن گئی،افسوس کےساتھ یہ فائنل کال نہیں تھی مس کال تھی، عمران خان کی فائنل کال مس کال ثابت ہوئی ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ علی امین گنڈاپور کا نام بھگوڑا ہونا چاہیئے، علی امین گنڈاپور دوسری بار بھاگےہیں، علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی ایک گاڑی میں فرار ہوئے، اطلاعات ہیں منال کے راستے سےفرار ہوئے،گھریلو خاتون کہنےوالی خاتون کا بھاگنا وطیرہ بن گیا،لیڈر کی فائنل کال تھی لیکن پی ٹی آئی والے سارے بھاگ گئے،فرار ہونے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے۔
پکڑے گئے مظاہرین میں افغان شہری بھی شامل تھے، پاکستان کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے ، کمشنر اسلام آ باد
عطا تارڑ نےکہاکہ 26 ویں آئینی ترمیم میں نقصان،آج اسلام آباد میں نقصان،پی ٹی آئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی،عوام ان کےجھانسے میں نہ آئیں، اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔
