سکیورٹی تھریٹ؛ اسلام آباد کی غیرقانونی آبادیاں خالی کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت میں حالیہ خودکش دھماکے کے بعد شہر کی حدود میں موجود تمام غیرقانونی آبادیوں کو خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس پر عمل درآمد آئندہ چند روز میں فوری طور پر شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات بڑھنے کے بعد اس معاملے کو اب مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزارتِ داخلہ کی مشاورت سے کیا گیا ہے، کیونکہ شہر کے اندر قائم ان کچی آبادیوں میں دہشت گرد عناصر کے ساتھ ساتھ غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ یہ علاقے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی سے باہر ہیں جس کے باعث خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس فیصلے کی بنیادی وجہ حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات بتائے گئے ہیں۔ اس لیے وہ تمام غیر قانونی بستیاں خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جہاں کوئی شرپسند پناہ لے سکتا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے علاقوں ملپور اور بری امام کی بستیاں ایک ایسے پیچیدہ تنازعے میں گھری ہوئی ہیں جہاں زمین، قانون، شہری منصوبہ بندی، انتظامی اختیارات، انصاف اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ ایک طرف ریاستی رٹ اور قواعد کا تقاضا ہے تو دوسری جانب برسوں سے آباد ہزاروں خاندان ایسے فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں جس سے وہ نہ صرف بے گھر اور بے روزگار ہوسکتے ہیں بلکہ انہیں اپنا علاقہ بھی چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

سی ڈی اے نے اسلام آباد کے علاقے ملپور میں غیرقانونی آبادی کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر سردار آصف کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملپور کے دونوں اطراف موجود غیرقانونی تعمیرات، کچی آبادیوں اور تجاوزات کو فی الفور ہٹایا جائے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ قوانین کے تحت اتھارٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کرے اور زمین کو سرکاری تحویل میں لے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق مقررہ مدت میں علاقہ خالی نہ کرنے کی صورت میں بھاری مشینری کے ساتھ آپریشن کیا جائے گا، جبکہ مزاحمت یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف توہینِ عدالت، ایک برس تک قید اور بھاری جرمانوں کی کارروائیاں بھی ممکن ہیں۔

حکام کے مطابق عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے غیرقانونی تعمیرات اور رہائش کے مرتکب افراد کو آخری انتباہ دے دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ بری امام کی غیرقانونی آبادی کے خلاف جاری آپریشن کو ملپور میں بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ تجاوزات نہ صرف ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی اور ماحولیات کے لیے بھی بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ادھر متاثرہ شہریوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں آبادی خالی کرنے کے لیے مناسب وقت اور متبادل رہائش فراہم کی جائے۔ تاہم سی ڈی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ متعدد مرتبہ نوٹس اور انتباہات کے باوجود ان علاقوں میں تعمیرات میں مسلسل توسیع کی گئی، جس کے باعث اب کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ شہریوں کو سخت قانونی پیچیدگیوں، بھاری جرمانوں اور گرفتاریوں سے بچنے کے لیے مقررہ مدت میں علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق شہر کے قیام کے وقت مختلف علاقوں کو محفوظ جنگلاتی زون، سرکاری استعمال یا ممنوعہ تعمیراتی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ آبادی بڑھتی گئی، عارضی جھونپڑیاں پکے مکانات میں بدل گئیں اور کمرشل سرگرمیاں بھی شروع ہو گئیں۔ یہ وہ عوامل تھے جنہوں نے آج کے بڑے تنازع کی بنیاد رکھی کیونکہ پرانی بستیوں نے بتدریج مستقل شکل اختیار کر لی ہے۔

ماضی میں ان بستیوں کے خلاف جب بھی کارروائی کی کوشش کی گئی، تو وہاں مقیم افراد نے عدالت سے حکم امتناعی لے لیا۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں کی زیادہ تر تعمیرات غیرمنظور شدہ، سرکاری یا محفوظ زمینوں پر قائم ہیں جو ماحول، جنگلات، ہریالی اور پانی کے بہاؤ پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں اور سکیورٹی خطرات میں اضافہ کا باعث ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ مختلف ادوار میں انسدادِ تجاوزات کے آپریشن، مسماری اور نوٹسز جاری کیے جاتے رہے۔

دوسری جانب مقامی آبادی کا دعویٰ ہے کہ کئی خاندان دہائیوں سے یہاں آباد ہیں، کچھ کے مطابق ان کے آباؤ اجداد نے زمین خریدی تھی جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے پاس تحریری ثبوت نہیں مگر نسلوں سے کاشت کاری، رہائش اور تعلقات کے باعث یہی ان کا گھر ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے خود یہاں بجلی، گیس، سکول اور دیگر سہولیات مہیا کیں، تو آج انہی علاقوں کو ’غیرقانونی‘ قرار دے کر انہیں بے دخل کیسے کیا جا سکتا ہے؟

یہ تنازع کئی مرتبہ عدالتوں تک پہنچا جہاں بعض متاثرین نے حکم امتناعی حاصل کیا جبکہ کئی خاندان برسوں مقدمات لڑتے رہے۔ عدالتوں نے بسا اوقات سی ڈی اے کو حدود کی نشاندہی، زمین کی درست پیمائش اور ماسٹر پلان کے مطابق عملدرآمد کے احکامات بھی دیے۔ اگرچہ عدالتیں تجاوزات کے خلاف کارروائی کو قانونی قرار دیتی رہی ہیں، تاہم انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے حقوق اور متبادل انتظامات پر بھی سنجیدگی سے غور کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اسلام آباد میں غیرقانونی آبادیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اس آپریشن نے ایک بار پھر ریاستی قوانین اور انسانی ہمدردی کے درمیان کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔

Back to top button