27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹرز کو مارنے کی دھمکی

حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے والے تین سینیٹرز کو قتل کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متعلقہ پولیس حکام کو فوری سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
اگلے روز داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں تینوں سینیٹرز نے جان سے مارنے کی دھمکیوں بارے باضابطہ طور پر کمیٹی کے چئیرمین کو آگاہ کیا۔ کمیٹی چئیرمین نے متعلقہ سیکیورٹی اداروں بشمول پولیس اور ایف آئی اے کو ہدایات جاری کیں کہ ان دھمکیوں کی تحقیقات میں پیش رفت کے حوالے سے ایوان کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے اور سینیٹرز کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جن سینیٹرز کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، ان میں سیف اللہ ابڑو، اسلم ابڑو اور نسیمہ احسان شامل ہیں۔ تینوں اراکین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو آگاہ کیا کہ انہیں نامعلوم عناصر کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ان سینیٹرز میں سے دو کو نامعلوم نمبروں سے فون کالز گئی ہیں جبکہ ایک کو پرچی موصول ہوئی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جن سینٹرز کو دھمکیاں ملی ہیں ان میں سے ایک کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جس نے 27ویں آئینی ترمیم پاس کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے اراکین سینیٹ کی جانب سے دھمکیوں کی تفصیل سننے کے بعد حکم دیا کہ جب تک صوبائی تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹیاں ان دھمکیوں کی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتیں، آئی جی اسلام آباد، آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان تینوں سینیٹرز کو فوری پولیس سیکیورٹی فراہم کریں۔ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے راجہ رفعت نے بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ ایف آئی اے دھمکیاں دینے والے عناصر تک پہنچنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ دھمکیوں کا شکار ہونے والے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے موقع پر پارٹی پالیسی کے برخلاف حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے 27 ویں ترمیم کے بعد بطور رکن پارلیمنٹ استعفی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ان کا استعفی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سینیٹر سیف اللہ ماضی میں پی ٹی آئی کے ایک فعال رکن کے طور پر مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ تاہم پچھلے چند ماہ سے وہ اپنی پارٹی سے عملا دور ہو گئے ہیں اور حکومتی لائن لے کر چلتے ہیں۔ سینیٹر سیف اللہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکیاں یقینا تحریک انصاف کے حلقوں کی جانب سے موصول ہوئیں ہیں۔
جان سے مارنے کی دھمکیوں کا شکار ہونے والی بلوچستان کی سینیٹر نسیمہ احسان سابق وزیراعلی مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی پارٹی مؤقف سے ہٹ کر ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، اور بعد ازاں 27ویں ترمیم کی حمایت بھی کی، جس کے باعث اب انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں کیونکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے 27ویں ترمیم کی مخالفت کی تھی۔ نسیمہ احسان سماجی ترقی، خواتین کے حقوق اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے سینیٹ میں مؤثر آواز سمجھی جاتی ہیں۔
فوج کو حکومت میں آئینی کردار دلوانے کا ضیائی ایجنڈا مکمل
اسی طرح پیپلزپارٹی کے سینیٹر اسلم ابڑو نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی جماعت کے تمام سینیٹرز نے 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن دھمکیاں صرف انکو موصول ہوئیں ہیں۔ وہ سندھ کی صوبائی سیاست سے ایوانِ بالا تک پہنچے اور پارٹی کے اندر آزادانہ مؤقف رکھنے کے باعث جانے جاتے ہیں۔ پارلیمانی فورمز اور ترقیاتی امور میں ان کی دلچسپی انہیں سندھ کی سیاسی قیادت میں نمایاں مقام دیتی ہے۔
