افغانستان کی طرف سےدھمکی آمیز بیانات مایوس کن ہیں،پاکستان

ترجمان  دفتر  خارجہ  نےکہا ہےکہ افغانستان کی طرف سےدھمکی آمیز بیانات مایوس کن ہیں، باجوڑ اور بنوں میں حملوں کے بعد ہماری کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مرکوز تھیں۔

ترجمان  دفتر  خارجہ نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ  پاکستان  افغانستان  سے  ہونے  والے  دہشت گرد حملوں کے خلاف  حق دفاع  میں ضروری  اقدامات  جاری  رکھےگا۔کابل پر طالبان حکومت کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، افغانستان سےسرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردحملوں کی تعداد کو ماضی یا 5 ماہ پہلےکے اعداد وشمار  سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا، پاکستان کو درپیش دہشت گردی کےخطرے سے مکمل طورپر آگاہ ہیں،صورتحال پرگہری نظر ہے، سکیورٹی فورسز ہرقسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکس اور متحرک ہیں، ملکی سلامتی یقینی بنانےکے لیے تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں موجود ہر پاکستانی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، افغانستان میں پاکستانی سفارت کاروں اور شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ترجیح ہے، اس معاملے پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ و تبادلہ خیال کیا گیا ہے، توقع ہے افغانستان میں ہمارے  سفارتی  عملے کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائےگی، اسلام آباد  اور دیگر شہروں میں افغان سفارت کاروں کی سلامتی کو  سنجیدگی سے لیتے ہیں، پاکستان اسلام آباد اور دیگر شہروں میں افغان سفارت کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، اسی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ افغان حکام سے بھی چاہتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں ماہ سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی 19ویں برسی ہے، اس حملے میں 70 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حملے میں ملوث سوامی آسیم آنند نے عوامی سطح پر اپنے جرم کا اعتراف کیا، بھارتی کرنل پروہت نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کیا، سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث چاروں مجرمان آزاد پھر رہےہیں، بھارت سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث مجرموں کو انصاف کےکٹہرے میں نہیں لاسکا،بھارتی وزارت خارجہ امور کےبیان کو سختی سےمسترد کرتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گرد حملےکے بعد بھارتی وزارت خارجہ کا بیان پاکستان کےمؤقف کی تصدیق ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیلی اقدامات خطے کے امن کےلیے خطرہ ہیں، اوآئی سی کا ہنگامی  وزارتی اجلاس26 فروری  سے جدہ  میں ہو رہاہے، اجلاس میں اسرائیلی قابض حکام کے غیرقانونی فیصلوں پرغور کیا جائےگا، اسحاق ڈارمقبوضہ مغربی کنارےکو ریاستی اراضی میں بدلنےکے اسرائیلی اقدامات  پرپاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، اسحاق ڈار  او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

 

Back to top button