وزیر اعظم کی ہدایت پر کیش لیس اکانومی کے فروغ کے لیے تین خصوصی کمیٹیاں قائم

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر ملک بھر میں کیش لیس اکانومی کو فروغ دینے کے لیے تین خصوصی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کمیٹی، ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ اڈاپشن کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی شامل ہیں۔

ان کمیٹیوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ عوام اور کاروباری اداروں کے مابین ادائیگیوں کو آسان بنائیں، ڈیجیٹل نظام کے بارے میں آگاہی بڑھائیں، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو متحرک کریں، قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان تشکیل دیں اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان لین دین کے نظام کو جدید اور مؤثر بنائیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیش لیس معیشت کے فروغ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیجیٹل لین دین نہ صرف نقدی کے مقابلے میں سستا ہے بلکہ زیادہ شفاف اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بھی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ’راست‘ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کو وفاق اور تمام صوبوں میں مؤثر طور پر نافذ کیا جائے تاکہ پورے ملک میں مالیاتی شفافیت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تقریباً 4 کروڑ سے زائد صارفین ‘راست’ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور اس نظام کو صوبوں تک وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اپنے بیشتر مالیاتی لین دین کو پہلے ہی ’راست‘ سسٹم کے ذریعے منتقل کر دیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتیں کیش لیس نظام کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے مدد لے کر اس سمت میں تیز تر اقدامات کرنے چاہییں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی عمران خان کی اسمبلی ہے ان کے حکم پر اسمبلی تحلیل کردیں گے : بیرسٹر گوہر

 

انہوں نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ نجی شعبے کے ساتھ تمام لین دین کو کیش لیس ماڈل پر منتقل کرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے۔

مزید بتایا گیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے اپنے قیام کے بعد سے ملک کو ڈیجیٹل فنانس کی طرف لے جانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔

اس ضمن میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ماتحت کام کرے گی، جبکہ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں "کیش لیس پاکستان اسٹیئرنگ کمیٹی” بھی قائم کی جا چکی ہے، جو اس عمل کی نگرانی کرے گی۔

Back to top button