صارفین کو چونالگانے والی پاکستانی کمپنیوں کے خلاف گھیرا تنگ

 

 

 

پاکستان میں خریداری کے دوران مختلف کمپنیوں کی جانب سے سامنے آنے والے دلکش وعدے، خصوصاً ’لائف ٹائم وارنٹی‘ جیسے دعوے، اکثر صارف کے اعتماد کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ کراچی کے علاقے کلفٹن کے رہائشی عارف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جنہوں نے ایک معمول کی گھریلو ضرورت پوری کرنے کے لیے نیا ریفریجریٹر خریدا۔ مگر یہ خریداری جلد ہی ایک قانونی معرکے میں بدل گئی۔ تاہم کنزیومر کورٹ نے نہ صرف عارف کو نئی فریج دلوائی بلکہ متعلقہ کمپنی پر لاکھوں روپے جرمانہ عائد کر کے واضح کر دیا کہ اب عوام کو جھوٹے دعوؤں اور وعدوں سے چونا لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

معروف گھریلو مصنوعات بنانے والی کمپنی کی جانب سے دھوکہ دہی کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کراچی کے عارف نے نیا ریفریجریٹر خریدا، تو کمپنی کی جانب سے لائف ٹائم وارنٹی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ کسی بھی صارف کے لیے یہ دعویٰ اعتماد اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی بنیاد پر عارف نے اس مخصوص برانڈ کا انتخاب کر لیا۔ تاہم یہ اعتماد اس وقت ٹوٹ گیا جب چند ہی ماہ میں ریفریجریٹر میں مختلف مسائل سامنے آنے لگے۔ عارف کے مطابق انہوں نے بارہا کمپنی سے رابطہ کیا، شکایات درج کروائیں اور مرمت بھی کروائی، مگر ہر بار مسئلہ حل ہونے کی بجائے برقرار رہا۔ کبھی تکنیکی خرابی کا جواز پیش کیا گیا تو کبھی نیا ریفریجریٹر دینے کا وعدہ کرکے معاملہ مؤخر کرنے کی کوشش کی گئی۔ وقت گزرتا رہا، مگر کمپنی کی یقین دہانیاں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ عارف نے بالآخرخاموش رہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کنزیومر پروٹیکشن عدالت جنوبی کراچی سے رجوع کر لیا۔

کنزیومر پروٹیکشن عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد عارف کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کمپنی کے طرزِ عمل کو صارفین کے حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شہری کو دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے، پچاس ہزار روپے بطور قانونی اخراجات دینے اور خراب ریفریجریٹر کی جگہ نیا ریفریجریٹر فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد عارف کو نہ صرف مالی ریلیف ملا بلکہ یہ احساس بھی ہوا کہ قانون واقعی عام صارف کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔یہ فیصلہ ان ہزاروں صارفین کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو ناقص اشیا یا خدمات کے باعث پریشان ہوتے ہیں مگر قانونی کارروائی کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں صارفین کو کیا حقوق حاصل ہیں اور وہ ان حقوق کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں؟ سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ نافذ ہے،اس قانون کے تحت ہر صارف کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ اسے معیاری، محفوظ اور وعدے کے مطابق اشیا اور خدمات فراہم کی جائیں۔ فروخت کی جانے والی شے اگر ناقص ہو یا اشتہار میں کیے گئے دعوے حقیقت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو صارف قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔

KPK حکومت کا قیدی نمبر 804 پر یوتھیوں کو چونا لگانے کا فیصلہ

قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں اگر صارف کو نقصان پہنچے تو عدالتیں عموماً صارف کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں، قانون کے مطابق’صارفین کو شکایت درج کرانے اور اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ قانون کے تحت صارف مرمت، تبدیلی، رقم کی واپسی یا ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔‘ ’اگر ناقص شے یا سروس کے باعث صارف کو ذہنی اذیت، مالی نقصان یا وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑے تو عدالت متعلقہ کمپنی پر ہرجانہ بھی عائد کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’اکثر صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنا ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، مگر حقیقت میں کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت شکایت درج کروانے کا طریقہ کار بہت آسان رکھا گیا ہے۔‘

ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کنزیومر کورٹس میں شکایت کیسے درج کی جا سکتی ہے؟قانونی ماہرین کے مطابق سب سے پہلے صارف کو چاہیے کہ وہ کمپنی یا دکاندار سے تحریری طور پر رابطہ کرے اور مسئلے کی نشاندہی کرے۔ اگر وہاں سے مسئلہ حل نہ ہو تو قانونی نوٹس کے ذریعے آخری موقع دے اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کنزیومر پروٹیکشن عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’درخواست کے ساتھ خریداری کی رسید، وارنٹی کارڈ، شکایات کا ریکارڈ، ای میلز یا پیغامات بطور ثبوت پیش کیے جا سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے بقول کنزیومر کورٹس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام شہری کم وقت اور کم خرچ میں انصاف حاصل کر سکیں، اسی لیے یہاں کارروائی نسبتاً تیز اور سادہ ہوتی ہے۔ کئی کیسز میں صارف بغیر وکیل کے بھی اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے، تاہم قانونی معاونت حاصل ہو تو فیصلے کے صارف کے حق میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘

Back to top button