ٹی ایل پی کا فرانس کے سفیر کی ملک بدری تک دھرنے جاری رکھنے کا اعلان

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری ہیں جب کہ گزشتہ روز احتجاج کے دوران 2 افراد جاں بحق جب کہ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ایک بیان میں تحریک لبیک پاکستان نے احتجاجی دھرنے ختم کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے ختم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، فرانس کا سفیر ملک بدر ہونے تک دھرنے جاری رہیں گے۔ ٹی ایل پی ترجمان طیب رضوی کا کہنا تھا کہ جب تک علامہ سعد حسین رضوی خود حکم نہ دیں گے ہمارے کارکنان دھرنوں پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن مقامات سے انتظامیہ نے دھرنا ختم کرایا ہے وہاں کارکنان احتجاج کےلیے دوبارہ پہنچیں گے، ساتھ ہی ترجمان ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں تحریک لبیک کے 12 کارکنان کو مارا جاچکا ہے۔ کراچی پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق پولیس ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کےلیے حب ریور روڈ ٹی ایل پی مظاہرین سے کلیئر کروانے کی کوشش کی اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھر برسائے۔ چنانچہ پولیس کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال قابو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ ملک کے مختلف حصوں میں کئی اہم سڑکیں اور شاہراہیں احتجاج کے باعث بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جب کہ کچھ مقامات پر پولیس اور ٹی ایل پی کارکنان کی جھڑپیں بھی ہوئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ملتان میں بہاولپور بائی پاس پر مظاہرین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے اس دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کا ایک کارکن زخمی ہوئے۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں ڈی ایس پی کینٹ جام سلیم بھی شامل ہیں۔ گوجرانوالہ میں ٹی ایل پی مظاہرین نے چندا قلعہ چوک میں احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے اس دوران ان کے وقفے وقفے سے پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سےکبڈی ٹیم کے کھلاڑیوں کو لایا گیا تاہم وہ بھی مظاہرین کو قابو نہ کرسکے اور احتجاج کرنے والوں نے پہلوانوں پر بھی پتھر برسائے۔ گجرات کے جی ٹی ایس چوک پر دھرنا دینے والے تحریک لبیک کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اس دوران وہاں لگے شامیانوں کو آگ لگادی گئی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ٹی ایل پی کارکنوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جب کہ کارکنان کی جانب سے پتھر برسائے گئے۔ پولیس کی جانب سے پھینکی گئی آنسو گیس سے راہگیر متاثر ہوئے اور تشدد سے کئی کارکنان بھی زخمی ہوئے۔ کارکنوں کے پتھراؤ سے درجنوں پولیس اہلکار بھی زخمی جس کے بعد جی ٹی ایس چوک میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ ادھر ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ تلہ گنگ میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے سیاسی جماعت کا ایک کارکن جان بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے بیان کے مطابق ایم-ون، ایم-ٹو، ایم-تھری، ایم-فور، ایم-فائیو، ایم-نائن، آئی ایم ڈی سی ڈبلیو اور ای-35 سمیت تمام موٹرویز ہر قسم کی ٹریفک کےلیے کھلی ہیں۔ تاہم ٹیکسلا بائی پاس، گجر خان سٹی، روات سٹی، دینا سٹی، کینال برج، لالہ موسیٰ، چاند دا قلعہ، مریدکے، پی این ای روڈ، مولن وال، مولن وال بائی پاسم رینالہ خرد، لاہور موڑ، روشن آباد اور لاڑکانہ بائی پاس کے مقامات پر سڑکیں احتجاج کے باعث بند ہیں۔ کراچی ٹریفک پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر میں بیشتر مقامات پر دھرنے ختم کیے جاچکے ہیں اور سڑکیں معمول کے ٹریفک کےلیے کھلی ہیں۔ البتہ بلدیہ نمبر 4 (حب ریور روڈ/نادرن بائی پاس)، کورنگی نمبر ڈھائی (کورنگی روڈ)، اورنگی ٹاؤن (شارع اورنگی) پر احتجاجی مظاہرین موجود ہیں۔ جس کے پیش نظر ٹریفک پولیس حکام نے مسافروں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ اسلام آباد پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر میں فیض آباد کے مقام پر تمام اطراف سے سڑکیں بند ہیں جب کہ 5 مقامات بشمول ڈھوکری چوک، راول ڈیم چوک، باراکہو روڈ، روات ٹی کراس اور ترنول کے مقامات پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
وفاقی دارالحکومت کا علاقہ ٹھال چوک، بھارہ کہو دونوں اطراف سے مکمل طور پر بند ہے اور ٹی ایل پی کے100 سے ڈیڑھ سو کارکنان مری سے اسلام آباد آنے والی روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ راستوں کی اپڈیٹ فراہم کرتے ہوئے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے بتایا کہ راول ڈیم روڈ، ترامڑی روڈ، فیصل ایونیو، ایکسپریس روڈ، مارگلہ روڈ ٹریفک کےلیے کھلے ہیں۔ ان کے علاوہ جناح ایونیو، سری نگر ہائی وے،7، 9، 10 اور 11 ایونیو، اتاترک ایونیو اور شاہراہِ دستور ہر قسم کی ٹریفک کےلیے کھلی ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ایف ایم 95 ریڈیو سے ہر 30 منٹ بعد تازہ ترین صورتحال نشر کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے جس کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ لاہور پولیس کے مطابق شہر میں امامیہ کالونی پھاٹک کالا کھٹائی روڈ، نیو شاد باغ چوک، شاہدرہ موڑ براستہ بیگم کوٹ چوک، کرول گھاٹی رنگ روڈ، شاہکام چوک، یتیم خانہ چوک اور اسکیم موڑ، خیابان چوک رائیونڈ روڈ، مند پلی رائیونڈ کے مقام پر سڑکیں احتجاج کے باعث بند ہیں۔ ٹی ایل پی نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔ حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کےلیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کےلیے مزید وقت مانگا۔ جس پر ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کےلیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں گزشتہ روز گرفتار کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرحوم قائد خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔ ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورت حال اختیار کرلی جس کے بعد ٹی ایل پی نے فیصل آباد اور کراچی میں ایک ایک کارکن کی فوتگی کا دعویٰ کیا۔
