مریم نواز کو دھمکی دینے والا فوجی نامی TLP ورکر مارا گیا

 

 

 

فیصل آباد کی تحصیل سمندری میں چند روز قبل پولیس مقابلے کے دوران مارے جانے والا محمد آصف عرف فوجی تحریکِ لبیک سے وابستہ تھا اور فوج میں بطور سپاہی خدمات انجام دے چکا تھا۔ تاہم جنوری 2025 میں بغیر اطلاع دیے فوج کو چھوڑنے کے بعد سے وہ ٹی ایل پی کے مفرور سربراہ علامہ سعد رضوی کا باڈی گارڈ تھا۔

 

اکتوبر میں مریدکے میں ہونے والے ٹی ایل پی کے دھرنے اور اس دوران پیش آنے والے پر تشدد واقعات کے بعد سے وہ مسلسل روپوش تھا۔ اس دوران آصف مسلسل سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز شیئر کرتا رہا، جن میں وہ نہ صرف وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز بلکہ دیگر حکومتی شخصیات کو بھی قتل کی دھمکیاں دیتا دکھائی دیتا تھا۔ مریدکے دھرنے کے دوران ہوئے پولیس آپریشن میں مجموعی طور پر سات افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں تین پولیس اہلکار، تین ٹی ایل پی ورکرز اور ایک راہگیر شامل تھا۔ لیکن باوجود اس کے، آصف اپنی ویڈیوز میں یہ دعویٰ کرتا رہا کہ اس آپریشن میں درجنوں افراد مارے گئے، اور یہ کہ وہ خود اس واقعے کا عینی شاہد ہے۔ اس جھوٹے بیانیے کے ذریعے وہ نہ صرف عوام کو اشتعال دلا رہا تھا بلکہ نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔

 

اسی دھرنے کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس رضوی تاحال روپوش ہیں۔ ان کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ تاہم تحریک لبیک کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد اور انس گرفتار ہو چکے ہیں اور سکیورٹی حکام کی تحویل میں ہیں۔ آصف کی موت کے بعد سامنے آنے والی سوشل میڈیا ویڈیوز میں وہ بتا رہا ہے کہ مریدکے آپریشن کے بعد وہ گرفتاری کے خوف سے بے گھر ہو گیا تھا اور مسلسل چھپتا پھر رہا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق وہ انٹیلیجنس اداروں کو بھی طویل عرصے سے مطلوب تھا اور فون ٹریسنگ کے ذریعے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ اس کی موت کے روز انٹیلیجنس اہلکار پولیس کے ساتھ اس کے گاؤں میں اس کی موجودگی چیک کرنے گئے تھے کیونکہ کچھ دن قبل اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنے علاقے میں ایک شخص سے رابطے میں ہے۔

 

پولیس کے مطابق 17 اکتوبر کو محمد آصف نے اچانک بازار میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس ڈرائیور افتخار موقع پر شہید ہو گیا جبکہ کانسٹیبل علی رضا زخمی ہوا۔ اس کے بعد وہ بھاگ کر قریبی مسجد میں داخل ہوا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلان کیا کہ ’’آج کوئی بھی پولیس والا میرے سامنے آیا تو جان سے مار دوں گا۔‘‘ عینی شاہدین کے مطابق اس دوران وہ مسلسل کہتا رہا کہ مریدکے میں بڑا ظلم ہوا تھا اور بہت لوگوں کو مارا گیا تھا اور اسی لیے ایجنسیاں اسے قتل کرنا چاہتی ہیں۔ عینی شاہد کے مطابق اس نے لوگوں کو للکار کر کہا کہ وہ اس کا ساتھ دیں کیونکہ وہ ’’فوج کا تربیت یافتہ‘‘ ہے۔

کورٹ مارشل مکمل ہونے پر فیض حمید کو مکافات عمل کا سامنا

آصف فوجی کے ہاتھوں پولیس ڈرائیور کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد نے 15 پر کال کی جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مسجد کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور قریبی گھروں کی چھتوں پر پوزیشن سنبھال لی۔ پولیس کے مطابق مسجد کے دروازے پر آصف کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا چنانچہ جوابی کارروائی کی گئی اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقابلے کے بعد پولیس اور مقامی انتظامیہ نے لاش ورثا کے حوالے نہیں کی بلکہ اسے خود دفنایا۔ روپوشی کے دوران محمد آصف نے بی بی سی کے نمائندے سے رابطہ کر کے تقریباً بیس منٹ کی ویڈیو کال بھی کی تھی، جس میں وہ کھیتوں میں چھپے ہونے کی بات کرتا رہا اور دعویٰ کیا کہ اسے اور اس کے رشتہ داروں کے گھروں پر روزانہ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ مریدکے دھرنے کے موقع پر سعد رضوی کے کنٹینر کی حفاظت پر مامور ’’سکواڈ‘‘ کا حصہ تھا اور اسکے پاس آنسو گیس کے شیل فائر کرنے والی گن بھی تھی جسے اس نے استعمال کیا۔ اس کے باوجود بی بی سی کے پاس موجود اس کا فوجی سروس کارڈ ظاہر کرتا تھا کہ وہ فوج سے باقاعدہ استعفیٰ دینے کے بجائے غائب ہوا تھا۔

محمد آصف کی ہلاکت کے بعد ابتدا میں تحریک لبیک نے اسے اپنا کارکن ماننے سے انکار کیا لیکن بعد میں اس کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے تنظیم کا کارکن تسلیم کیا۔ دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ نے اس واقعے سے متعلق بی بی سی کی جانب سے کیے گئے متعدد سوالات کا باضابطہ جواب دینے سے گریز کیا اور صرف اتنا کہا کہ اس واقعے کی تفتیش کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔

 

Back to top button