پاکستان کو افغانستان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟

 

 

 

پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری سرحدی جھڑپوں اور پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں کی گئی تازہ کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے جاری فوجی مہم ’غضب للحق‘ اور کابل کی جوابی دھمکیوں کے درمیان سب سے اہم سوال یہی ابھر رہا ہے:دونوں ممالک کی عسکری قوت کیا ہے؟ اگر پاک افغان کشیدگی مکمل تصادم میں بدلتی ہے تو عسکری میدان میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟

 

عسکری ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کی فوجی صلاحتیوں میں کافی نمایاں فرق ہے۔ پاکستان کو طالبان رجیم پر ہر لحاظ سے سبقت حاصل ہے۔ عالمی عسکری تجزیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں شامل ہے اور دنیا کے 145 ممالک میں اس کا نمبر بارہواں ہے، جبکہ افغان طالبان کی قوت بنیادی طور پر زمینی اور محدود وسائل تک مرکوز ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج تقریباً چھ لاکھ ساٹھ ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک منظم، تربیت یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فورس ہے، جبکہ طالبان کے جنگجوؤں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ بہتر ہزار بتائی جاتی ہے، جن کی اکثریت روایتی زمینی دستوں پر مشتمل ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں سب سے نمایاں فرق فضائی طاقت کے میدان میں نظر آتا ہے۔ پاکستان کے پاس سینکڑوں لڑاکا طیاروں، جدید ہیلی کاپٹروں اور آپریشنل ایئر بیسز کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ ایف-16 اور جے ایف-17 تھنڈر جیسے طیارے پاکستان کی فضائی برتری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس طالبان کے پاس کوئی مؤثر لڑاکا فضائی بیڑا موجود نہیں۔ اگرچہ انہوں نے امریکی افواج کے چھوڑے گئے کچھ ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو فعال بنانے کا دعویٰ کیا ہے، مگر دفاعی ماہرین کے مطابق ان جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی آپریشنل استعداد محدود اور غیر یقینی ہے۔ یہی خلا کسی بھی ممکنہ تصادم میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاستی سطح پر تحقیق، تربیت، لاجسٹکس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو طویل المدتی برتری فراہم کرتے ہیں۔فضائی طاقت اور سٹریٹجک اثاثوں کے میدان میں یہ فرق سب سے زیادہ واضح ہے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 465 لڑاکا طیارے، 260 سے زائد ہیلی کاپٹرز اور اندازاً 170 جوہری وارہیڈز موجود ہیں،اس کے برعکس افغانستان کے پاس فعال لڑاکا طیاروں کا کوئی مؤثر بیڑا موجود نہیں، جبکہ محدود تعداد میں دستیاب پرانے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی آپریشنل حالت بھی غیر یقینی بتائی جاتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین زمینی محاذ پر بھی فرق واضح ہے۔ پاکستان کے پاس ہزاروں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، خودکار اور روایتی توپخانے، ملٹی بیرل راکٹ سسٹمز اور جدید نگرانی کے آلات موجود ہیں۔ دوسری جانب اگرچہ طالبان کے پاس بڑی تعداد میں ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار موجود ہیں، جن میں سابق افغان فوج اور امریکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ شامل ہے، مگر بھاری ہتھیاروں کی تکنیکی حالت اور مؤثر استعمال پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان اب بھی ایک منظم روایتی فوج کے بجائے گوریلا طرزِ جنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ دافعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی عسکری برتری کا ایک اور پہلو اس کا وسیع میزائل اور سٹریٹجک پروگرام ہے۔ مختصر فاصلے سے لے کر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائل، اور جوہری صلاحیت، اسے خطے کی بڑی طاقتوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان کے پاس درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سٹریٹجک اثاثے موجود ہیں، جو کسی بھی ہمہ گیر جنگ کو روکنے کے لیے بطور باز دفاعی طاقت کردار ادا کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب طالبان کے پاس اس نوعیت کی کوئی سٹریٹجک صلاحیت موجود نہیں۔ عسکری ماہرین کے بقول عالمی سطح پر اب ڈرون ٹیکنالوجی بھی جدید جنگ کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان نہ صرف ترکی اور چین سے جدید ڈرون حاصل کر چکا ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی جنگی اور نگرانی کرنے والے بغیر پائلٹ طیارے تیار کر رہا ہے۔ اس کے برعکس طالبان کی فضائی نگرانی اور ڈرون صلاحیت محدود اور غیر منظم بتائی جاتی ہے۔

افغانستان بار بار پاکستان سے پنگے بازی کیوں کر رہا ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق فضائی، زمینی، میزائل اور سٹریٹجک ہر سطح پر پاکستان کو افغان طالبان پر نمایاں برتری حاصل ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان کی عسکری طاقت میں بنیادی فرق تربیت، تنظیم اور جنگی نظریے کا ہے۔ پاکستان کی فوج ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے جسے روایتی جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ طالبان کی اصل طاقت گوریلا حکمت عملی، گھات لگا کر حملوں، دہشتگردانہ کارروائیوں اور پہاڑی علاقوں میں جنگی تجربے میں مضمر ہے۔ یہی تجربہ انہیں طویل اور غیر روایتی تصادم میں برتری دے سکتا ہے، مگر کھلے اور روایتی محاذ پر طاقت کا توازن واضح طور پر پاکستان کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button