’’طبی ماہرین کا عقل داڑھ سے متعلق بڑا انکشاف‘‘

عقل داڑھ دانتوں کا تیسرا سلسلہ کہلاتا ہے، یہ داڑھ دانتوں کا تیسرا سلسلہ ہے جو 17 سے 25 برس کی عمر کے درمیان جبڑے میں دانتوں کی قطار کے سب سے آخر میں نکلتا ہے۔دانتوں کا پہلا سلسلہ اس وقت نکلتا ہے جب بچہ چند ماہ کا ہوتا ہے جسے عموماً دودھ کے دانت کہا جاتا ہے یہ دانت ابتدائی چند سال میں اپنی مدت پوری کر کے ٹوٹ جاتے ہیں، دوسرا سلسلہ میں دودھ کے دانت کی جگہ نئے دانت آ جاتے ہیں جوکہ تعداد میں 28 ہوتے ہیں تاہم 32 دانتوں کے مکمل ہونے میں تیسرا سلسلہ کافی اہمیت رکھتا ہے یہ ایک ایسی عمر میں شروع ہوتا ہے جب آپ شعوری طور پر کافی سمجھدار ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں عقل داڑھ کہا جاتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ عقل داڑھ ہر کسی کو نہیں آتی ہے کچھ ان میں صرف ایک یا دو جبکہ بعض میں یہ چاروں نکل آتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عقل داڑھ سب سے مضبوط داڑھ ہوتی ہے، کبھی کبھار یہ بہت آسانی سے جبکہ بعض اوقات بہت درد اور تکلیف کے ساتھ نکلتی ہے، سائنس دانوں کا خیال ہے کہ لاکھوں سال قبل زیادہ مضبوط جبڑوں اور دانتوں کی ضرورت ہوا کرتی تھی کیونکہ ابتدائی انسانی آباؤ اجداد کو غذا کھاتے تھے وہ سخت ہوتی تھی اور انہیں زیادہ چبانے کی ضرورت پڑتی تھی، زراعت، کھانا پکانے اور خوراک کا ذخیرہ کرنے سمیت بہت سے عوامل کی وجہ سے آج کا کھانا ماضی کے مقابلے میں بہت نرم ہے۔ اور چبانے میں آسانی سے کھانے کا مطلب ہے کہ دانتوں پر کام زیادہ مشکل نہیں، نتیجے کے طور پر، انسانی جبڑے چھوٹے ہونا شروع ہوئے، ان تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے، جو لاکھوں سالوں میں بہت آہستہ آہستہ ہوئی ہیں، تیسرا سلسلہ جو کہ عقل داڑھ کہلاتا ہے، سامنے کے بجائے دانتوں کے آخرسرے تک محدود رہ گئے۔آج کل تقریباً 25 فیصد لوگوں میں صرف ایک عقل داڑھ نکلتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کا تعلق ان جینز سے ہو سکتا ہے جو ان کو اپنے والدین سے وراثت میں ملی ہوں، ۔ کچھ سائنسدانوں نے دلیل دی ہے کہ عقل داڑھ کی کمی چھوٹے جبڑے والے انسانوں کے لیے ایک فائدہ ہے۔ چھوٹے جبڑے میں کم دانت فٹ کرنا یقینی طور پر آسان ہے، بعض اوقات، جگہ کی کمی کی وجہ سے، یہ داڑھ جبڑے کی ہڈی کے اندر پھنس جاتی ہے اور پوری طرح سے اوپر نہیں آتی یا وہ صرف جزوی طور پر نکلتی ہے۔ایسے معاملات میں جہاں عقل داڑھ صرف جزوی طور پر نکلتی ہے لوگوں کو بعض اوقات درد، دانتوں کی خرابی یا مسوڑھوں کی سوزش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں دانتوں کے ڈاکٹر کے ذریعے نکلوا لیتے ہیں لیکن انہیں عام طور پر ہٹانے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر وہ
منہ میں پوری طرح نکلے ہوں، صحیح پوزیشن میں ہوں اور صحت مند ہوں۔
