مسلم لیگیوں کو سودے بازی کرنے والا لیڈر قبول نہیں ہے


مسلم لیگی رہنما اور نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے یہ بیان داغ کر ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے کہ پارٹی ورکرز کسی بھی سودے بازی والے لیڈر کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ورکرز کے اندر بہت غصہ ہے، ان کا رویہ بہت سخت ہے اور وہ  کسی ایسے لیڈر کو سپورٹ کرنے کو تیار نہیں جو کسی بھی قسم کی سودے بازی کرے گا یا اس سودے بازی کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گا۔ اور یہی اس وقت سب سے بڑا پریشر ہے مسلم لیگ نون کی لیڈر شپ پر۔ 
اردو نیوز سے ایک خصوصی انٹرویو میں محمد زبیر نے جو کچھ کہا ہے وہ بالواسطہ طور پر نواز لیگ کے صدر اور مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے والے شہباز شریف کو ٹارگٹ کرتا ہے جو اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کے برعکس موقف اپنائے ہوئے لگتے ہیں۔ مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے شہباز شریف کے موقف کے برعکس بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لیگی ورکرز میں بہت غصہ ہے، ان کا رویہ بہت سخت ہے وہ کوئی ایسا کام کرنے یا کسی ایسے لیڈر کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں جو مزاحمتی بیانیے کسی بھی قسم کی سودے بازی کرے گا۔ محمد زبیر نے کہا کہ کراچی میں حال ہی میں ہونے والے واقعات جس میں ن لیگ سندھ کے سیکریٹری جنرل مفتاح اسماعیل کا استعفیٰ اور اس سے پہلے ہونے والے واقعات ہوئے، ان پر بھی ورکروں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، بالخصوص سینئر لیڈر شپ کے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگوں کی توقعات اب بالکل مختلف ہو چکی ہیں، وہ تو اب لڑ کر اور چھین کر اپنا حق لینا چاہتے ہیں۔‘ سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ورکرز سمجھتے ہیں ان کی حکومت دنڈے کے زور پر ختم کی گئی، اور صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ 1993 اور اس کے بعد 1999 اور پھر 2014 میں بھی اسے گرانے کی کوشش کی گئی اور بالآخر عدالت کے ذریعے نواز شریف کو گھر بھیج دیا گیا.
محمد زبیر عمر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں اور ان کے بغیر پارٹی نہیں چل سکتی۔’میں ان کے بغیر عوام میں نہیں جا سکتا۔ انہوں نے پنجاب میں جو کام کیے وہ آج بھی مسلم لیگ ن کی علامت ہیں، اسی طرح مریم نواز جس طریقے سے سامنے آئی ہیں انہوں نے اس خلا کو پر کیا ہے، جس وقت میں وہ سامنے آئیں اس وقت ایک جارحانہ لیڈر شپ کی ضرورت تھی اور انہوں نے بڑی مہارت سے اس خلا کو پر کیا۔‘
تاہم زبیر سمجھتے ہیں کہ مریم نواز اور شہباز شریف کا اکٹھے کام کرنا پارٹی کے لیے انتہائی خوش آئند ہوگا، اس سے بہتر کوئی کومبینیشن نہیں ہو سکتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کومبینیشن میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کہ سب سے بڑی رکاوٹ مسلم لیگ ن کو جس طریقے سے دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے تاہم یہ رکاوٹ کس نے ڈالی ہے، انہوں نے اس کا نام نہیں لیا۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر دو مختلف آراء یعنی مفاہمتی اور مزاحمتی آرا ضرور موجود ہیں لیکن یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ ہر کوئی اپنے طریقے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
زبیر نے کہا کہ ’شہباز شریف بہت تیزی سے آگے بڑھنا چاہ رہے ہیں اور ان کی نظریں 2023 کے انتخابات پر ہیں۔ اسی حوالے سے وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ پارٹی میں مکمل طور پر متحرک ہیں اور یہ ملاقاتیں بہت اہم ہیں۔‘محمد زبیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ سمجھتی ہے کہ 2023 کے انتخابات میں ہر صورت میں وفاق میں حکومت بنانی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی ساری تیاری پنجاب میں حکومت بنانے پر ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا راستہ پنجاب سے ہو کر ہی نکلتا ہے۔’یہ درست بات ہے کہ ہماری ٹیم سرتوڑ کوشش کر رہی ہے، یقیناً پنجاب بھی لیں گے اور وفاق میں بھی اگلی حکومت بنائیں گے۔‘انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے قائد نواز شریف اگلے قومی انتخابات سے قبل پاکستان پہنچ جائیں گے۔

Back to top button