طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،103افراد جاں بحق،ایمرجنسی نافذ

پنجاب میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،103افراد جاں بحق جبکہ 393سےزائدشہریوں کے زخمی ہونےکی اطلاعات ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رین ایمرجنسی نافذکردی۔
رپورٹس کے مطابق راولپنڈی، چکوال اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارشوں کے سبب ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہو گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل واسا پنجاب، طیب فرید کی ہدایت پر تمام فیلڈ ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں مون سون کا سسٹم سرگرم ہے، جب کہ آج بھی شہر میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور میں درجہ حرارت کم از کم 27 اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
بارشوں کے پیش نظر واسا، ایل ڈبلیو ایم سی، بلدیہ عظمیٰ اور محکمہ ہاؤسنگ کے افسران و عملہ الرٹ ہیں۔ ڈی جی واسا کے مطابق تمام ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل صلاحیت پر فعال ہیں اور ریسکیو ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں، اور بجلی کی تاروں یا کھلے مین ہولز کے قریب نہ جائیں۔ ڈی جی واسا نے مزید کہا کہ تمام دفاتر کو بارش کے دوران اور بعد میں نکاسی آب کی مسلسل نگرانی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاکہ نشیبی علاقوں سے پانی فوری نکالا جا سکے۔
ترجمان واسا پنجاب کے مطابق صورتحال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ رواں سال مون سون بارشوں سے اب تک 103 شہری جاں بحق اور 393 زخمی ہو چکے ہیں۔ بارشوں سے 128 مکانات متاثر اور 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے، جن میں لاہور سے 15، فیصل آباد سے 9، ساہیوال سے 5، پاکپتن سے 3 اور اوکاڑہ سے 9 اموات رپورٹ ہوئیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ صوبے بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ آج بھی جاری رہے گا، اور ندی نالوں اور دریاؤں میں ممکنہ طغیانی کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے شہریوں سے گزارش کی کہ برسات کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر پرانے اور کچے گھروں میں قیام سے گریز کریں۔ بوسیدہ چھتوں والی عمارتوں کے گرنے سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں، اس لیے بچوں کو بجلی کی تاروں، کھمبوں اور نشیبی علاقوں کے قریب نہ جانے دیا جائے۔ احتیاطی اقدامات ہی جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہیں۔
