توشہ خانہ ٹو کیس : عمران خان نے بریت کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بریت کی درخواستیں خارج کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے بریت کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے۔
خیال رہے کہ 14 نومبر کو اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔
اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر فریقین کےدلائل سننے کےبعد 8 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتےہوئے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں خارج کردیں تھیں،دوران سماعت عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیاگیا جب کہ بشریٰ بی بی غیر حاضر رہی تھیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی 3 درخواستیں مسترد
یاد رہےکہ 12 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کےلیے ایف آئی اےکی تین رکنی جے آئی ٹی تشکیل دےدی گئی تھی۔
نیب ترامیم کےحوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کر دیا تھا۔
قبل ازیں عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنےکا حکم دیا تھا۔
جب کہ 13جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئےریفرنس میں گرفتار کرلیاتھا۔
نیب کی انکوائری رپورٹ کےمطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سےمتعلق ہے۔
