توشہ خانہ ٹو کیس : اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتےہوئے 18 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کےخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی،درخواست گزار کی جانب سےوکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت میں وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اپنایاکہ 9 ستمبر کو احتساب عدالت نےکیس منتقلی کا آرڈر کیاتھا، 10 ستمبر کو پیش ہوئےتو اسپیشل جج سینٹرل ایک ہفتے کےلیے چھٹی پرچلے گئے۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ کیس آج 16 ستمبر کےلیے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کےپاس مقرر ہے، جج شاہ رخ ارجمند پہلے ہی عدت کیس میں کیس سننےسے ڈھائی ماہ بعد معذرت کرچکے ہیں۔
دوران سماعت عدالت میں بشریٰ بی بی نےاستدعا کی کہ عدالت اسپیشل جج سینٹرل کو جلد سماعت کرکے فیصلہ دینےکی ہدایت دے۔وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری پر نوٹس ہو چکےتھے پھر بھی گرفتاری ہو گئی، اب ضمانت بعد از گرفتاری کامعاملہ بھی اسی طرح لٹکا ہواہے۔
آئینی ترمیم : کابینہ اجلاس مؤخر، بل آج بھی قومی اسمبلی میں پیش نہ کیے جانے کا امکان
عدالت نے کیس کی سماعت مؤخر کرتےہوئے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے 18 ستمبر کو جواب طلب کرلیا۔
یادرہے 12 ستمبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیا توشہ خانہ کیس میں درخواست ضمانت پر جلد فیصلے کےلیے اسلام آباد ہائی کورٹ سےرجوع کیاتھا جس میں انہوں نے اسپیشل جج سینٹرل سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر جلد فیصلہ دینے کا حکم جاری کرنےکی استدعا کی تھی۔
6 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی نیا توشہ خانہ کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کردی تھی ۔
13 جولائی کو نیب نےعمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کےفوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئےریفرنس میں گرفتار کرلیاتھا،نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنےاور بیچنےسے متعلق ہے۔
