ٹریفک پولیس ختم، مریم نواز کا CCD کی طرز پر نیا محکمہ بنانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے اور مقدمات کے اندراج کے بعد اب بار بار چالان ہونے والی گاڑیوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نے ایک ماہ میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی پر محکمہ ٹریفک پولیس کو بند کر کے سی سی ڈی کی طرز پر نیا محکمہ بنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں چوتھی ترمیم کرکے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کی تجویز منظور کر لی ہے جس کے تحت ٹریفک سگنل، ون وے کی خلاف ورزی سمیت مختلف وائلیشنز پر نہ صرف عوام پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے بلکہ مسلسل ٹریفک قوانین توڑنے پر شہریوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ ان کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی جائیں گی۔
سی ٹی او ڈاکٹر اظہر وحید کے مطابق موٹر سائیکل اور تھری وہیلر گاڑیوں پر مختلف وائلیشنز پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا جبکہ 2ہزار سی سی سے کم کار یاجیپ وغیرہ کو 2ہزار سے 5ہزار جبکہ 2ہزار سی سی سے زائد پر 5ہزار سے 20ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائے گا، کمرشل گاڑیوں کو ٹریفک کی مختلف وائلیشنز پر 10ہزار سے 20ہزار روپے تک کے جرمانے کیے جائیں گے۔ سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ ہر ٹریفک وائلیشن پر پوائنٹ کی کٹوتی بھی ہوگی اور ایک سال میں 20 پوائنٹس کٹ جانے پر لائسنس 6 ماہ کیلئے معطل کر دیاجائے گا۔ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ پر سیکشن 97 اور ون وے وائلیشن پر سیکشن 98A کے تحت ایف آئی آر درج ہوگی جس پر 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کم عمر ڈرائیورز کی معاونت کرنے والے کے خلاف سیکشن 99B کے تحت ایف آئی آر درج ہوگی جس پر 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے، گاڑی کی ساخت تبدیل کرنے جیسے موٹر سائیکل رکشہ کی باڈی بدلنا، پھٹہ رکشہ بنانا وغیرہ پر بھی سیکشن 105 کے تحت مقدمات کا اندراج ہوگا۔
ڈاکٹر اطہر وحید کے بقول بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر سیکشن 106A کے تحت مقدمہ درج ہوگا جس کی سزا 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے، گاڑیوں کی باڈی کو مقررہ حد سے زیادہ پھیلانے پر سیکشن 112D کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ ڈاکٹر اطہر وحید نے شہریوں کو خبردار کیا کہ سیکشن 112E کے تحت سیاہ شیشوں والی گاڑیوں پر مقدمات درج ہوں گ جسکی سزا 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تھری وہیل گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لیے ہیلمٹ لازم قراردیا گیا ہے جبکہ گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے مسافر کے لیے بھی سیٹ بیلٹ لازم ہے ورنہ سیکشن 89A اور 98B کے تحت مقدمہ ہوگا۔ پنجاب میں اب بار بار چالان ہونے کی صورت میں گاڑی نیلام کر دی جائے گی جبکہ سرکاری گاڑیوں کو بھی قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق مقررہ حد رفتار سے تجاوز پر موٹر سائیکل پر 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 5 ہزار، لگژری یا ہیوی گاڑی 20 ہزار روپے جرمانہ اور 4 پوائنٹس کٹ جائیں گے۔ اسی طرح الیکٹرونک یا دستی ٹریفک سگنل توڑنے پر موٹر سائیکل کو 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 5 ہزار، ہیوی / پبلک وہیکل 10 سے 15 ہزار جرمانہ اور 4 پوائنٹس کٹیں گے۔رات کے وقت گاڑی کے آگے پیچھے مناسب لائٹس نہ ہونے پر موٹر سائیکل 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 3 ہزار، بڑی گاڑی 8 ہزار، ہیوی یا پبلک وہیکل 10 ہزار اور 3 پوائنٹس کی کٹوتی ہو گی۔ون وے کے خلاف پر موٹر سائیکل پر2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 5 ہزار، ہیوی یاپبلک وہیکل 10 سے 15 ہزار جرمانہ اور 4 پوائنٹس کم ہوں گے۔گاڑی کے شیشوں پر ٹنٹ، فلم یا کنورٹیڈ گلاس استعمال کرنے پر کار 5 ہزار، لگژری اور بڑی گاڑی 10 ہزار، پبلک یا کمرشل وہیکل 15 ہزار جرمانہ اور 3 پوائنٹس کی سزا ہو گی۔ لائن، لین یا زیبرا کراسنگ کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل پر 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 3 ہزار، بڑی یا ہیوی گاڑی 8 ہزار، پبلک وہیکل 10 ہزار جرمانہ اور 3 پوائنٹس ڈیڈکٹ ہونگے۔ڈرائیونگ کے دوران ہاتھ میں موبائل فون استعمال کرنے پر موٹر سائیکل 2 ہزار، رکشہ 3 ہزار، کار 5 ہزار، ہیوی یا پبلک وہیکل 10 سے 15 ہزار جرمانہ اور 4 پوائنٹس ڈیڈکٹ ہونگے ۔
کیا وزیراعظم نے گورنر سندھ ٹیسوری سے استعفی مانگ لیا ہے؟
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محکمہ ٹریفک پولیس کو لاہور میں ٹریفک کی صورتحال کی بہتری کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہر چیز بہتر ہو چکی ہے مگر ٹریفک کا برا حال ہے، ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔‘مریم نواز نے ٹریفک پولیس کو خبردار کیا کہ ’یہ آخری چانس ہے، اگر 30 دن میں ٹریفک کے نظام میں بہتری نہ لائی گئی تو موجودہ ڈیپارٹمنٹ کو فوری تحلیل کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کیلئے بھی سی سی ڈی کی طرز پر نیا ڈیپارٹمنٹ بنادیا جائے گا۔‘
