عمران کے خلاف غداری کیس: تاریخ خود کو کیسے دہرائے گی؟

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کو سیکیورٹی رسک قرار دینے کے بعد اب یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اُنکے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ہماری سیاسی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں ہوگا کہ کسی سابق وزیر اعظم کے خلاف غداری کا کیس درج ہو، اس سے پہلے بھی کئی منتخب وزرائے اعظم کو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی اپنی بہن سے ملاقات کے بعد سامنے آنے والی زہریلی ٹویٹ کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہو گیا  ہے کہ انکے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں جو دوٹوک اور سخت پیغام دیا، اسے مذاق نہ سمجھا جائے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اُن کے بعد ان کا مستقبل ایم کیو ایم کے بانی سے مختلف دکھائی نہیں دیتا۔

 

یاد رہے کہ چند روز پہلے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی غیر معمولی سخت لہجے میں عمران کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سابق وزیراعظم کا ایسا زہریلا بیانیہ ریاست کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ فوجی ترجمان کی جانب سے کسی سابق وزیراعظم کے بارے میں یہ بیان معنی خیز ہے، لیکن پاکستانی سیاسی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مختلف ادوار میں وزرائے اعظم فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سکیورٹی رسک، غیر ملکی ایجنٹ یا غدار قرار دیے جاتے رہے ہیں۔

 

قیام پاکستان کے بعد کی پہلی دہائی سیاست دانوں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کی باہمی کشمکش میں گزری۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی ادارے مضبوط نہ ہو سکے، حکومتیں بار بار ٹوٹتی رہیں، اور بالآخر ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس دور میں سیاست دانوں کو بدعنوان، سازشی اور ملک دشمن ثابت کرنے کے لیے ’ایبڈو‘ جیسے قوانین بنائے گئے، جن کے ذریعے کئی رہنماؤں کو سیاست سے باہر کر دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی جیسے مقبول رہنما کو بھی اسی بیانیے کے تحت ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دے کر ہٹا دیا گیا۔

 

ایوب خان کے دور میں فاطمہ جناح تک پر غداری کے الزامات لگائے گئے۔ صدارتی انتخاب کے دوران ان کے خلاف پمفلٹس تقسیم کیے گئے کہ وہ ملک توڑنے کی سازش کر رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جس فاطمہ جناح کو اسٹیبلشمنٹ نے غدار کہا، وہی بعد میں عوام کی نظر میں مادرِ ملت قرار پائیں۔

ذوالفقار علی بھٹو، جنہوں نے پاکستان کا متفقہ آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور قوم کو سیاسی شعور دیا، وہ بھی اسی غداری کے بیانیے کا نشانہ بنے۔ جنرل ضیاالحق کے مارشل لا دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ  اور ملک دشمن قرار دیا گیا، اُن کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور پھر پھانسی دے دی گئی۔ بعد ازاں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بھی بھٹو کی سزا کو عدالتی قتل قرار دیا اور عوام نے اُنہیں شہید کا درجہ دیا ہے۔

 

محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی اپنے دونوں ادوار میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سکیورٹی رسک قرار دیا جاتا رہا۔ جب وہ بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی سے امن کے لیے مذاکرات کر رہی تھیں تو خفیہ اداروں نے یہ نتیجہ نکالا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی حکومتیں دو مرتبہ قبل از وقت فوج کے ایما پر صدر کے ہاتھوں برطرف کی گئیں۔ انہیں غیر ملکی ایجنٹ تک کہا گیا، لیکن عوامی سیاست میں وہ پھر بھی سب سے مقبول رہیں اور آج انہیں دختر ملت کا درجہ دیتے ہوئے شہید قرار دیا جاتا ہے۔

 

نواز شریف بھی پاکستان کی تاریخ میں شاید وہ واحد رہنما ہیں جنہیں تین دہائیوں میں بارہا غدار اور سکیورٹی رسک کہا گیا۔ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل مشرف نے انکے خلاف طیارہ سازش کیس بنایا اور انہیں سزائے موت تک دلوا دی لیکن وہ خوش قسمت نکلے کہ سعودی عرب کے ذریعے جان بخشی کی ڈیل کر کے ملک سے باہر چلے گئے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی قومی سیاست میں زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں نواز شریف پر ملک دشمنی کے الزامات لگانے والے آج انہیں سیاست کا مرکزی ستون قرار دیتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے PTI پر پابندی لگانے کا کتنا امکان ہے

اس سارے پس منظر میں عمران خان کے خلاف تازہ ترین الزامات اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی نظر آتے ہیں۔ 2022 میں حکومت جانے سے پہلے ہی ان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے چپقلش شروع تھی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے میر جعفر، میر صادق اور نیوٹرل جیسے الفاظ نے اس کشیدگی کو گہرا کیا۔ پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ ہونے کے بعد 9 مئی کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں نے عمران خان اور فوجی قیادت کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب فوجی ترجمان کی عمران مخالف پریس کانفرنس، ان سے جہل میں ملاقاتوں پر پابندی، اور عمران کے متنازع ٹویٹ نے صورتحال کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں فیصلہ ساز ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے پر غور کر رہی ہے۔

Back to top button