مہنگائی کے باعث پاکستان میں الیکٹرک بائکس خریدنے کا رجحان

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور حالیہ عالمی کشیدگی نے نہ صرف معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ایک بہت بڑے انقلاب کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔ پاکستان میں ایندھن کی قلت اور فیول پرائسز میں اضافے کے خدشات نے عوام کو متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف توجہ دینے ہر مجبور کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں ای بائیکس یعنی الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی خریداری اور استعمال میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض ڈیلرز کے بقول گزشتہ چند ماہ میں ای بائیکس کی فروخت میں 60 سے 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صارفین اب متبادل توانائی کی جانب سنجیدگی سے مائل ہو رہے ہیں۔ راولپنڈی میں پٹرول موٹرسائیکلز کو الیکٹرک بائیکس میں تبدیل کرنے والے کاروباری افراد کے مطابق صرف ایک ماہ میں کاروبار میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح الیکٹرک بائیکس کی فرنچائزز چلانے والے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ای بائیکس کی فروخت ان کے کاروبار کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں جہاں تقریباً 3 کروڑ موٹر سائیکلیں اور رکشے سڑکوں پر موجود ہیں جو مجموعی پٹرول کی کھپت کا تقریباً 40 فیصد استعمال کرتے ہیں، وہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اوسط آمدنی والا گھرانہ اب ایک لیٹر پٹرول خریدنے کے لیے اپنی روزانہ آمدنی کا تقریباً 31 فیصد خرچ کر رہا ہے، اسی وجہ سے اب عوام پٹرول بائیکس کو چھوڑ کر الیکٹر موٹر سائیکلوں کی طرف آ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فیول پرائسز کے دوران الیکٹرک بائیکس ایک سستا اور قابلِ عمل متبادل بن کر سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پٹرول کے مقابلے میں الیکٹرک چارجنگ کا خرچ 8 سے 10 گنا تک کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت پیشہ افراد سے لے کر طلبہ تک، ہر طبقہ ای بائیکس کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال الیکٹرک بائیکس اور سکوٹیز کی فروخت تقریباً تین گنا بڑھ کر 90 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ رواں سال یہ شرح 10 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ای بائیکس کے بڑھتے رجحان کی سب سے بڑی وجہ پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایک عام شہری کی آمدن کا بڑا حصہ صرف ایندھن پر خرچ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک موٹر سائیکل استعمال کرنے والا فرد ماہانہ ہزاروں روپے صرف پٹرول پر خرچ کرتا ہے، جبکہ الیکٹرک بائیک کی چارجنگ اس کے مقابلے میں کئی گنا سستی پڑتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق الیکٹرک بائیک کا ماہانہ خرچ پٹرول بائیک کے مقابلے میں تقریباً 8 سے 10 گنا کم ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عوام ای بائیکس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ایندھن کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو لوگ خود بخود سستے متبادل کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں بھی الیکٹرک بائیکس کا استعمال بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد کوئٹہ کے بازاروں کی رونقیں بحال
توانائی کے ماہرین اس رجحان کو پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے بقول پاکستان اپنی زیادہ تر ضروریات درآمدی تیل سے پوری کرتا ہے، اس لیے اگر بڑی تعداد میں لوگ الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل ہو جائیں تو نہ صرف درآمدی بل میں کمی آئے گی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوں گے۔ ماہرین کے بقول ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود 3 کروڑ موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں سے صرف 20 لاکھ موٹرسائیکلز بجلی پر منتقل ہو جائیں توسالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس متقلی سے فضائی آلودگی میں بڑی حد تک کمی بھی واقع ہو سکتی ہے، ماہرین کے مطابق حکومت بھی ای بائیکس کو سپورٹ کرنے کیلئے مختلف سطحوں پر تعاون فراہم کر رہی ہے، پنجاب حکومت کی ایک حالیہ سکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر 20 فیصد تک سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ باقی رقم کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ س اسکیم کو نہ صرف غیر معمولی عوامی پذیرائی مل رہی ہے بلکہ اب تک اس سکیم کیلئے لاکھوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس متبادل کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کہنا بجا ہوگا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اگرچہ عوام پر مالی دباؤ بڑھایا ہے، لیکن اسی دباؤ نے ای بائیکس کی صورت میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے جو پاکستان کی معیشت، ماحول اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔
