ٹرمپ انتظامیہ نے عمران کے بیٹوں کو لال جھنڈی دکھا کر فارغ کر دیا

عمران خان کے بیٹوں کی امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی رچرڈگرینل سے ملاقات کے بعد یوتھیوں نے جس مدد کی آس باندھی تھی، وہ حسبِ روایت واشنگٹن کی مصلحتوں کے نیچے دبی محسوس ہوتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو جھنڈی دکھاتے ہوئے عمران خان کی رہائی میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکی انکار نے عمرانڈوز کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے مبصرین کے مطابق قاسم اور سلیمان کی رچرڈ گرینل سے ملاقات دراصل ایک بند دروازے پر دستک تھی۔ جس پر گرینل نے حوصلہ رکھنے کا محتاط جواب دے کر پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اس در سے انھیں کچھ نہیں ملے گا۔ امریکہ کبھی بھی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرکے پاکستانی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے گا۔ رچرڈ گرینل کی جانب سے قاسم اور سلیمان کو صرف "حوصلہ بلند رکھنے” کا مشورہ دینا، اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ امریکا عمران خان کی رہائی کے معاملے میں جذباتی ہمدردی سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔
مبصرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی رچرڈ گرینل سے عمران خان کے بیٹوں کی ملاقات نے وقتی طور پر یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید بانی پی ٹی آئی کی رہائی بارے واشنگٹن کی سطح پر کوئی سفارتی ہلچل جنم لے گی۔ لیکن امریکی رویے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ وہ اصولی طور پر بیرونی ممالک کے عدالتی فیصلوں میں مداخلت سے گریز کی پالیسی پر قائم ہے۔ عمران خان کا معاملہ خواہ جتنا بھی سیاسی رنگ لیے ہو، امریکا کے لیے یہ اب بھی کوئی بین الاقوامی انسانی حقوق کے بحران کی بجائے ایک "داخلی عدالتی مسئلہ” ہے ۔ ناقدین کے مطابق قاسم اور سلیمان کی طرح ماضی میں بھی واشنگٹن میں سیاسی روابط، انتخابی مہمات میں شمولیت، یا سابق حکام سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔تاہم امریکی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ کسی اتحادی ریاست کے عدالتی عمل کو براہِ راست متاثر کرنے سے گریزاں رہی ہے۔ مبصرین کے بقول امریکی مداخلت کے سہارے تبدیلی کی امید لگانا ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو زمینی حقائق سے زیادہ، خواہشات پر مبنی ہے۔ قاسم اور سلیمان کی مہم اندرونِ ملک پارٹی کے کارکنان میں وقتی توانائی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن پی ٹی آئی قیادت کو یہ جان لینا چاہیے کہ بین الاقوامی سیاست کا مزاج، کسی ایک رہنما کی قید یا رہائی کے لیے اپنی پالیسی نہیں بدلتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بات تو زور و شور سے کرتا ہے، مگر جب بات کسی اتحادی ملک کی داخلی سیاست یا عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے کی ہو، تو واشنگٹن محتاط اور بسا اوقات مکمل لاتعلق ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ سابق وزیراعظم عمران خان کی قید اور ان کے خلاف جاری عدالتی مقدمات پر بھی صادق آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کی امریکا میں سرگرم سفارتی مہم نے سیاسی فضا کو وقتی طور پر گرم تو ضرور کیا ہے، مگر ان کی کوششیں کسی حقیقی ریلیف یا نتیجہ خیز سفارتی دباؤ میں بدلتی نظر نہیں آتیں۔ قاسم اور سلیمان سے ملاقات کے بعد امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل کا ردعمل حسبِ توقع غیر واضح اور سفارتی تھا: ان کا کہنا تھا کہ "دنیا بھر میں لاکھوں افراد سیاسی انتقام کا شکار ہوتے ہیں، آپ حوصلہ بلند رکھیں۔”اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ امریکی حلقے اس معاملے کو پاکستان کا "داخلی معاملہ” سمجھتے ہیں۔ جس کے بعد اس معاملے میں براہ راست امریکی مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
سینئر تجزیہ کار حسن عسکری کے مطابق "امریکا کبھی بھی براہِ راست عدالتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوتا، خاص طور پر کسی ایسے ملک میں جو اس کا اسٹریٹجک اتحادی ہو۔ عمران خان کی سزا پاکستان کی عدالتوں سے ہوئی ہے، اور امریکی سفارتی رویہ ہمیشہ اس دائرے کا احترام کرتا آیا ہے اور اس بات کے امکانات معدوم ہیں کہ وہ اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرے گا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی تعلقات کی ماہر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں:”قاسم اور سلیمان کی مہم ایک جذباتی اور علامتی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا ہے۔ مگر یہ نہ بھولیں کہ امریکا میں موجود پاکستانی برادری کی لابنگ آج تک کبھی براہِ راست کسی پاکستانی سیاسی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکی اب بھی لگتا نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ، پاکستان کے عدالتی یا سیاسی معاملات پر کوئی دباؤ ڈالے گی۔ اس لیے یہ کہنا کہ رچرڈ گرینل پاکستان کی سیاست میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں محض خوش فہمی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
مبصرین کے مطابق قاسم اور سلیمان کی لابنگ کے باوجود امریکی حکومت شاید خاموش رہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی سرگرمیاں پاکستان میں سیاسی جذبات کو ضرور متاثر کر سکتی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو اس سے نئی امید ملی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق عمران خان کے بیٹے آئندہ ہفتوں میں پاکستان واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں ان کی موجودگی سے پارٹی کو عارضی تحریک ضرور مل سکتی ہے۔
سیاسی مبصر مجیب الرحمن شامی کے مطابق عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد سے کوئی بڑا طوفان یا احتجاجی تحریک تو پیدا نہیں کرے گی لیکن ان کی موجودگی سے پارٹی کو ایک اخلاقی توانائی ضرور مل سکتی ہے، جو کہ 5 اگست کی متوقع تحریک میں مددگار ہو سکتی ہے۔” تاہم کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان میں موجودگی خود احتجاجی تحریک کے لیے ایک ریڈ لائن بن سکتی ہے۔ کیونکہ ان کی شرکت کو حکومت اور ادارے سنجیدگی سے لیں گے، جس کے بعد تحریک کی شدت یا پھیلاؤ محدود ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے نزدیک قاسم اور سلیمان کی امریکہ یاترا کسی ٹھوس سفارتی دباؤ سے زیادہ علامتی مزاحمت کی آئینہ دار دکھائی دیتی ہے۔ ایسی سیاسی سرگرمی جو بیرونی حمایت کے بجائے پارٹی کے اندر امید کا چراغ روشن رکھنے کی کوشش ہے۔ قاسم اور سلیمان کی ملاقاتوں کا علامتی پیغام واشنگٹن کے ایوانوں کو کم اور بنی گالہ کے کارکنوں کو زیادہ سنایا جا رہا ہے۔ تاکہ یوتھیوں کے مانند پڑنے والے جوش و خروش کو بڑھایا جا سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصول پسندی یا انسانی حقوق کی بجائے قومی مفادات کے گرد گھومتی ہے،یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی کوششیں اگرچہ قابلِ فہم اور جذباتی طور پر طاقتور ہیں، مگر سفارتی لحاظ سے محدود ہیں۔ اس لئے ان کی کاوشوں کا اصل اثر واشنگٹن کی بجائے لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کی گلیوں میں محسوس کیا جائے گا۔ جہاں عمران خان کے چاہنے والے ان کوششوں کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
