ایران پر حملہ نا کرنے کا فیصلہ دباؤ میں نہیں بلکہ ذاتی طور پر کیا ،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ انہوں نے کسی کی سفارش یا دباؤ کے تحت نہیں کیا بلکہ خود اپنی مرضی سے کیا۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا عرب ممالک یا اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر فوری حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟ اس پر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ انہوں نے ذاتی طور پر کیا اور اس کے پیچھے ایک اہم وجہ بھی تھی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے گزشتہ روز 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں یہ سزا منسوخ کر دی گئی۔ ایران کی جانب سے پھانسیوں کی منسوخی کے بعد ٹرمپ نے بھی ایران پر حملے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹرمپ کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیوں کیا۔
اس سے پہلے، فرانسیسی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کو روکنے کے لیے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں، جس پر صدر ٹرمپ ایران کو ایک موقع دینے پر رضامند ہو گئے۔
اسی دوران، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
