ٹرمپ نے اسرائیل کو ایرانی اور ایران کو قطر کی توانائی تنصیبات پر حملوں سے روک دیا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں سے روک دیا ہے جبکہ ایران کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ قطر کی توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو امریکا پارس گیس فیلڈ کو تباہ کر دے گا۔

یہ انکشاف امریکی اخبار وال سٹریٹ آف جنرل کی رپورٹ میں کیا گیا ہے ،رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو سخت پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے فی الحال توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے آبائے ہومز میں کوئی اشتعال انگیزی کی تو امریکی پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا، جو دنیا کے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایرانی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کا پیشگی علم تھا، تاہم ان کا مؤقف حتمی نہیں سمجھا جا رہا۔

توانائی تنصیبات پر حملے: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ ہوگیا

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں موجود ان تیل تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیر انتظام چل رہی ہیں۔

اسی تناظر میں ایران نے راس لافن انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم قطر انرجی کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی کشیدگی میں خطرناک اضافہ اور اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

Back to top button