ضرورت پڑنے پر ایران میں برّی فوج تعینات کی جاسکتی ہے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمین فوج اتارنے کا امکان ظاہر کرتےہوئے کہا کہ ضرورت پڑی تو ایران میں برّی فوج تعینات کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ایران پر جلد بڑے حملے کرنے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایران پر جاری امریکی کارروائی کے بارے میں واضح اور پرعزم موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں امریکی برّی فوج کی تعیناتی کو خارج از امکان نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ سابق صدور کی طرح قطعی نہیں کہہ سکتے کہ کسی بھی حالت میں برّی فوج استعمال نہیں ہوگی، لیکن ضرورت پڑنے پر اسے بھیجنے کا امکان ہمیشہ موجود ہے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اب تک ایران کے خلاف سب سے بڑی شدت کے فضائی حملے نہیں کیے گئے اور اصل بڑی لہر جلد شروع ہونے والی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران پر جنگ مسلط کرنے کا اصل مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک پہنچانا ہے، خواجہ آصف

صدر نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای حملے کے وقت اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں اجلاس میں موجود تھے، اور اس کارروائی میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما ہلاک ہوئے، جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت شامل ہے۔

ٹرمپ نے ایران میں امریکی مشن کے تین اہم مقاصد بیان کیے ، جن میں پہلے نمبر پر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا، دوسرا اس کی بیلسٹک میزائل صلاحیتیں تباہ کرنا اور تیسرا ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا شامل ہیں۔

صدر نے کہا کہ یہ کارروائی تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گی، اور مقصد ایران سے دنیا کو لاحق خطرات کو ختم کرنا اور عالمی امن کو یقینی بنانا ہے۔  امریکہ اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گردوں کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

صدر ٹرمپ کو پچھتانا کیوں پڑے گا؟ حامد میر کی وارننگ

صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ چار امریکی اہلکاروں کے لیے سوگ منا رہے ہیں جو ایران میں کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے، اور ان کی یاد میں مشن کو زبردست اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

ابتدائی طور پر کارروائی کے لیے چار سے پانچ ہفتوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا، لیکن صدر نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ دیر تک کارروائی جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ایران کیخلاف کارروائی کے بعداب شایدمعاہدہ ممکن نہیں،ٹرمپ

ٹرمپ نے بتایا کہ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد یہ ممالک خود تنازع میں سرگرم ہو گئے۔ ابتدا میں ان کا کردار محدود تھا، مگر اب وہ خود جنگ میں شامل ہونے پر اصرار کر رہے ہیں۔

ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے صدر نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اگلا رہنما کون ہوگا، تاہم موجودہ قیادت اب جوہری مذاکرات کے لیے بہت دیر سے تیار ہے، اور انہیں یہ فیصلہ ایک ہفتے قبل کر لینا چاہیے تھا۔

Back to top button