ٹرمپ کا بڑا اقدام: یورپی یونین اور میکسیکو پر تجارتی ٹیکس عائد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد تجارتی ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کی تفصیلات ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ تجارتی خطوط کے ذریعے شیئر کیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یکم اگست سے یورپی یونین کی مصنوعات اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 30 فیصد نیا ٹیکس لاگو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام "امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے اور غیر منصفانہ تجارتی رویوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے ضروری ہے۔
ٹرمپ کے اس فیصلے پر یورپی یونین نے شدید ردِعمل دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لین نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے نیا ٹیکس نافذ کیا گیا تو یورپی یونین فوری طور پر جوابی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہے، تاہم بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کے حامی بھی ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی کئی ممالک پر یکطرفہ طور پر بھاری محصولات عائد کر چکے ہیں۔ اب تک میانمار اور لاؤس پر 40 فیصد، جنوبی افریقا، سری لنکا، الجزائر، عراق اور لیبیا پر 30 فیصد، جبکہ جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، قازقستان، برونائی اور مالدووا پر 25 فیصد ٹیکس نافذ کیا جا چکا ہے۔ فلپائن پر 20 فیصد ٹیکس پہلے ہی عائد کیا جا چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات ممکنہ طور پر عالمی تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشت غیر یقینی حالات سے دوچار ہے۔
