ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کی اپنی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار

 

 

 

ایران کے خلاف جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ میں آگ لگانے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی داخلی سیاست کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایک طرف پارٹی کے کچھ رہنما ایران سے جنگ کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اور بااثر مبصرین امریکہ سے فوری طور پر اس تنازع سے نکلنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ادھر عوامی سرویز سے ظاہر ہوتا ہے امریکی عوام کی بڑی تعداد بھی صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کی تائید کرنے سے انکاری ہو گئی ہے، مبصرین کے مطابق ایران پالیسی پر اختلافات سے جہاں واشنگٹن کی سیاسی فضا میں کشیدگی بڑھ گئی ہے وہیں یہ اختلافات آئندہ انتخابات کے ساتھ ساتھ امریکی خارجہ پالیسی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود نظریاتی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

 

امریکی میڈیا کی معروف شخصیت اور طویل عرصے تک صدر ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے ٹکر کارلسن نے بھی ایران جنگ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایران سے جنگ کا حصہ رہنا کسی بھی صورت امریکہ کے مفاد میں نہیں۔ امریکا کو اس تنازع سے جلد از جلد نکل جانا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔اسی طرح مقبول پوڈکاسٹر جو روگن نے بھی ایران کے خلاف امریکی جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دےدیا ہے،

 

واضح رہے کہ ایران جنگ بارے ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات صرف میڈیا یا سیاسی تبصروں تک محدود نہیں رہے بلکہ کانگریس میں بھی اس حوالے سے اختلافی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ کے معاملات پر ویٹو کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم یہ بل کامیاب نہ ہو سکا۔

 

امریکی میڈیا کی دیگر قدامت پسند شخصیات اور سیاسی رہنما بھی ایران جنگ کے حوالے سے مختلف نوعیت کے تحفظات کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے قریبی سیاسی رہنما ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری دفاعی مہم اور پالیسی بیانات میں پائے جانے والے تضادات بھی تنقید کا باعث بن رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر انتظامیہ کی حکمت عملی واضح نہیں اور مختلف حکام کے بیانات میں ہم آہنگی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

ایران پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو لینے کے دینے کیوں پڑ گئے؟

عوامی رائے کے جائزوں سے بھی اس معاملے پر امریکی معاشرے میں تقسیم ظاہر ہو رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس اس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ جو ووٹر خود کو “میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں، ان میں تقریباً دس میں سے نو افراد جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں جنگ کے حوالے سے حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔امریکا میں عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس نے اس امریکی پالیسی کے سیاسی اثرات پرسوالیہ نشان لگا دیاہے۔مبصرین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے بلکہ امریکی داخلی سیاست، آئندہ صدارتی انتخابات اور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 

Back to top button