کراچی میں تیار کردہ شیطانی مجسمے کی حقیقت کھل گئی

کراچی میں تیار کردہ دس فٹ بلند شیطانی مجسمے کے حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کے برعکس پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مجسمہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے یومِ القدس کے موقع پر ہونے والی ریلی کے دوران نذرِ آتش کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ کراچی پولیس کے مطابق مجسمہ تھرماپول اور فوم سے تیار کیا گیا تھا اور اسے احتیاطی اقدام کے طور پر تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ آرڈر دینے والے افراد سے تحریری مؤقف حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

گزشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پرایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی تھی جس میں کراچی کے علاقے کورنگی کے مہران ٹاؤن کے قریب سڑک کے کنارے ایک بڑے سائز کا مجسمہ رکھا دکھائی دے رہا تھا۔ ویڈیو بنانے والا شخص دعویٰ کرتا سنا جا سکتا ہے کہ یہ ’شیطانی مجسمہ‘ کسی پروگرام میں نصب کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور انتظامیہ کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ مجسمہ ایک مصروف سڑک کے کنارے رکھا ہے جبکہ اطراف میں معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس معاملے کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد متعلقہ تھانے کی پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی اور مجسمے کی تلاش شروع کر دی۔ بعد ازاں پولیس نے اسے تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی جانے والی ایک ویڈیو میں ایک اہلکار بتاتا ہے کہ ہم اس مجسمے کو اٹھا کر تھانے لے آئے ہیں۔ یہ فوم کا بنا ہوا ہے۔ ابھی تک ہمیں اس کا مالک نہیں ملا، جب مالک مل جائے گا تو پتا چلے گا کہ اسے کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

تھانہ کورنگی کے ایس ایچ او ناصر محمود کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے فوراً بعد پولیس نے اس مقام کی تلاش شروع کی جہاں یہ مجسمہ موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں درست جگہ کا تعین کرنا مشکل تھا کیونکہ افطاری کا وقت تھا اور دکانیں بند ہو چکی تھیں۔
ان کے بقول ہم نے بند دکانوں کے تالے کھلوائے اوراس دکان تک پہنچے جہاں یہ مجسمہ موجود تھا۔ اس کے بعد دکان کے مالک اور اس شخص کا پتا چلایا گیا جسے دکان کرائے پر دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مجسمہ بنانے کا آرڈر ایک مذہبی جماعت نے دیا تھا۔ ایس ایچ او ناصر محمود نے بتایا کہ کاریگر سے پوچھ گچھ کے دوران اس شخص کا نام اور فون نمبر حاصل ہوا جس نے یہ آرڈر دیا تھا۔ جب اس شخص سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ مجسمہ یومِ القدس کے موقع پر ہونے والی ریلی میں علامتی طور پر نذرِ آتش کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
ناصر محمود کے مطابق پولیس نے اس مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو بھی طلب کیا ہے تاکہ وہ اس معاملے پر اپنا تحریری بیان دے سکیں، تاہم اب تک وہ پیش نہیں ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مجسمہ بنانے والے کاریگر کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ بظاہر اس معاملے میں کوئی مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ہمارے نزدیک اس کیس میں کوئی ملزم یا قصوروار نہیں ہے۔ ہم صرف اس بات کو دستاویزی شکل دینا چاہتے ہیں کہ یہ مجسمہ کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل فروری 2026 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر نکالی جانے والی ریلیوں میں بھی ایک بڑے مجسمے کو مظاہرین نے نذرِ آتش کیا تھا۔ اس مجسمے کو منتظمین نے قدیم دیوتا بعل کی علامت قرار دیا تھا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق بعل قدیم سامی اقوام کا ایک دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ مذہبی روایات میں اسے ایک جھوٹے معبود کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی تفاسیر میں لفظ ’بعل‘ کے لغوی معنی آقا، سردار یا مالک کے بیان کیے گئے ہیں جبکہ بعض مقامات پر اسے شوہر کے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ معروف اسلامی سکالر جاوید احمد غامدی کی تفسیر کے مطابق قدیم سامی زبانوں میں لفظ بعل الٰہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور لبنان کی فینیقی قوم اسے اپنا بڑا دیوتا تصور کرتی تھی۔ تاریخی روایت کے مطابق بعد میں اس کی پرستش بنی اسرائیل میں بھی پھیل گئی تھی۔

کراچی میں برآمد ہونے والے مجسمے کی ساخت بھی اسی طرح کے سینگوں والے دیوتا سے مشابہ بتائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں، تاہم پولیس تحقیقات نے اس کی تیاری کا مقصد واضح کر دیا ہے۔

Back to top button