ڈونلڈٹرمپ کی ایک رات میں ایران کو تباہ کرنےکی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہم ایک رات میں ایران کو تباہ کردیں گے، اور وہ رات کل بھی آ سکتی ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہاکہ ایران کو روکنا بہت ضروری ہے، ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔امریکا نے دنیا کی تاریخ کا اہم ترین آپریشن انجام دیا، جہاں ہمارے طیارے امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے ایران کے اندر تک گئے۔
انہوں نے کہاکہ امریکا نے دنیا کی تاریخ کا اہم ترین آپریشن انجام دیا، جہاں ہمارے طیارے امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے ایران کے اندر تک گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے 200 فوجیوں نے حصہ لیا، اور اس دوران اپنے 2 طیارے خود تباہ کیے۔ایران کے خلاف امریکا کی جانب آپریشن اچھی طرح سے جاری ہے، بطور کمانڈر ان چیف میں اپنے فوجیوں کی کل کی شاندار کارکردگی کبھی نہیں بھول سکتا۔
امریکی صدر نے کہاکہ امریکا ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا، اب ایران سے مذاکرات میں امریکا کی تجاویز بہت اہم ہیں۔
قبل ازیں واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو دی گئی منگل کی ڈیڈلائن حتمی ہے، آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کا کوئی پل نہیں بچے گا، اور ضرورت پڑی تو تیل پر قبضہ کرلیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایران میں ہمارا آپریشن رجیم کی تبدیلی تھا، اب ایران کے پاس کچھ میزائل اور ڈرونز بچے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلی، دوسری اور تیسری رجیم تبدیل کردی، ڈیل کے لیے امریکی تجاویز بہت اہم ہیں، اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ جنگ فورا ختم ہو سکتی ہے اگر ایران وہ کرے جو ہم چاہتے ہیں، ایرانی مذاکرات کار اب زیادہ معقول ہیں، اور ہم دانشمند لوگوں سے بات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایران اگر معاہدہ مسترد کرتا ہے تو اس کا کوئی پاور پلانٹ اور پل نہیں بچے گا، اس وقت ایران کی حمایت کرنے والے بے وقوف لوگ ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا پر بھی تنقید کی، اور سی این این پول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروے مجھے شکست خوردہ بتا رہا ہے لیکن میں ہارا نہیں ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے منگل تک کا وقت دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، مصر اور ترکیہ سمیت دیگر ممالک جنگ بندی کے لیے کوششیں کررہے ہیں، اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ میٹنگ بھی ہو چکی ہے۔
