ستائیسویں ترمیم: آئینی اور ریاستی ڈھانچے کی مرمت کی کوشش

تحریر: حسن نقوی
1973 کے آئین میں کی جانے والی 27ویں ترمیم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا سیاسی مکالمہ اکثر ردعمل پر استوار ہوتا ہے، تجزیے پر نہیں۔ ترمیم کے اعلان کے بعد سے ایک بحث چل رہی ہے۔ کچھ لوگ اسے مرکزیت کی طرف واپسی کہتے ہیں، اور کچھ اسے عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض اسے نظام کو ازسرِ نو طاقت کے توازن کے ساتھ گڑھنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ترمیم نہ صرف ایک قانونی مسودہ ہے اور نہ محض کسی حکومت کی سیاسی ضرورت۔
یہ دراصل اس آئینی و ریاستی ڈھانچے کی مرمت کی کوشش ہے جو پاکستان کی موجودہ آبادی، عدالتی بوجھ، سلامتی کے تقاضوں اور ادارہ جاتی میلانات کے لحاظ سے فرسودہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ آئین جس عمر میں داخل ہو چکا ہے، اس میں تبدیلی اُس کی کمزوری نہیں، اُس کی بقا ہے۔ پچاس برس پہلے بنایا گیا آئینی ڈھانچہ ایک ایسے پاکستان کے لیے تھا جس میں آبادی کم تھی، اداروں پر دباؤ محدود تھا، قومی سلامتی کی نوعیت روایتی تھی، اور عدالتوں کو ہر سماجی مسئلے کا فیصلہ کرنے کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا تھا۔ آج پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو انصاف بھی فوری چاہتی ہے، وسائل کی تقسیم بھی، گورننس کی رفتار بھی، اور سلامتی کا ایسا ڈھانچہ بھی جو کسی غیر یقینی کے بغیر چل سکے۔ لیکن یہ سب اُس آئینی سانچے سے مانگا جا رہا ہے جو اُس وقت کا ہے جب نہ میڈیا اتنا آزاد تھا، نہ شہری حقوق اتنے متحرک، نہ سیاسی نظام اس قدر تناؤ میں تھا۔
اسی تناظر میں اس ترمیم کو سمجھنا ضروری ہے۔ ستائیسویں ترمیم، بوصرف الفاظ کی درستی نہیں بلکہ نظام کی سانس بحال کرنے کی کوشش ہے۔ یہ اس لیے نہیں لائی جا رہی کہ پاکستان کے پاس وقت کم ہے، بلکہ اس لیے کہ وقت اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ ادارے اُس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے بوجھ کا وزن ان کی ساخت سے زیادہ ہو چکا ہے۔ عدلیہ مقدمات کے انبار میں دبی ہے، وفاق اور صوبے باہمی تنازعات میں قید ہیں، آئینی ذمہ داریاں اور عملی کارکردگی میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے، اور قومی سلامتی کے فیصلے آئینی متن کے بجائے غیر تحریری روایات پر چل رہے ہیں۔
سپریم کورٹ، جو بنیادی آئینی تشریح کا سب سے اعلیٰ فورم ہے، آج نہ صرف آئینی مقدمات بلکہ انتظامی احکامات، بیوروکریسی کے تبادلوں، ریگولیٹری تنازعات، حتیٰ کہ سیاسی مقدمات تک سننے پر مجبور ہے۔ اس بوجھ نے اُسے فیصلہ کرنے والی عدالت سے زیادہ فیصلہ منتظر رکھنے والی عدالت بنا دیا ہے۔ آئین میں مجوزہ آئینی عدالت کا قیام اس بوجھ کو منظم تقسیم دینے کی ایک دیرینہ ضرورت ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں، اسے اصل کام پر واپس لانے کا طریقہ ہے۔ اگر ایک عدالت بیک وقت بنیادی حقوق، ماتحت عدلیہ کی اپیلوں، پبلک انٹرسٹ پٹیشنوں اور پارلیمانی تنازعات پر فیصلہ سنائے، تو انصاف کی رفتار سیاست کا یرغمال بن جاتی ہے۔
وفاق اور صوبوں کا مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے وسائل اور اختیارات کا بڑا حصہ صوبوں تک منتقل کیا، جو ایک سیاسی و تاریخی ضرورت تھی۔ مگر ایک دہائی بعد یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ایسے کئی شعبے اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشترکہ تھے — یعنی نہ صرف مرکز کے کنٹرول میں رہ سکتے تھے اور نہ مکمل طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں۔ ترمیم ان خلاؤں کو پُر کرتی ہے۔ یہ صوبوں سے اختیار چھینتی نہیں، اسے واضح بناتی ہے کہ کون سا کام کس سطح پر ہونا چاہیے، تاکہ ذمہ داری اور جوابدہی دونوں ایک جگہ جمع رہیں، منتشر نہ ہوں
قومی سلامتی کے آئینی ڈھانچے کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو دنیا کی چند بڑی ایٹمی قوتوں میں شامل ہو، جو ایک پیچیدہ جغرافیائی محاذ پر کھڑی ہو، اور جو داخلی و خارجی محاذوں کے درمیان توازن رکھتی ہو، اُس ریاست کا آئین سلامتی کے پورے ادارہ جاتی ڈھانچے کو صرف روایتی الفاظ میں برداشت نہیں کر سکتا۔ آئین کو محض نام نہیں، نقشہ بھی دینا ہوتا ہے — اور یہ ترمیم وہی کرتی ہے۔ یہ فوج کو طاقت نہیں دیتی، آئینی درجہ دیتی ہے۔ طاقت ہمیشہ سے وہاں تھی، صرف آئینی صفحے پر نہیں تھی۔
عدلیہ کے تبادلوں سے متعلق اعتراض بھی وسیع بحث میں گردش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی عدالتی نظام میں جج کی منتقلی کو اس کی ذاتی رضا پر چھوڑا نہیں جاتا—شرط یہ ہے کہ اس منتقلی کو شفاف ضابطوں سے باندھا جائے، اور یہ ترمیم انہی ضابطوں کی تشکیل کی طرف قدم ہے۔ انتظامی ضرورت اور عدالتی خودمختاری میں فرق تبھی واضح ہوتا ہے جب اصول واضح ہوں، نہ کہ جب ہر فیصلہ انفرادی خواہش سے جڑا رہے۔
ان تمام نکات کے درمیان اصل سوال یہ نہیں کہ ترمیم سے کس طبقے یا ادارے کو فائدہ ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ آئینی بندوبست قوم کو نقصان پہنچا رہا ہے یا نہیں۔ اس وقت ایک ایسا خلا موجود ہے جہاں عدلیہ بوجھ میں، وفاق توازن میں، اور سلامتی کا ڈھانچہ تعریف میں الجھا ہوا ہے۔ یہ تینوں ریاست کے بنیادی ستون ہیں، اور ان کی تھکان کسی ایک حکومت نہیں، پورے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔
ترمیم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شاید یہ وقت مناسب نہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ریاستیں انہی فیصلوں میں تاخیر کرکے ٹوٹتی ہیں جنہیں وہ وقتی تنازع سمجھ کر ٹال دیتی ہیں۔ آئین جب تک زندہ ہے، اس پر جراحی ناگزیر ہے۔ غیر لچکدار آئین ایک تاریخی دستاویز تو بن سکتا ہے، مگر مستقبل کا راستہ نہیں بن سکتا۔ کسی بھی ریاست کے لیے اصل خطرہ تبدیلی نہیں — رک جانا ہے۔
ریاستی اصلاح کا سوال جذبات نہیں، صلاحیت سے جڑا ہے۔ مستقبل ان ریاستوں کا ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ اپنے اداروں کو دوبارہ ترتیب دینے کی ہمت رکھتی ہیں۔ دنیا کی کسی بڑی جمہوریت نے آئین کو مقدس سمجھ کر نہیں بچایا، بلکہ اسے قابلِ ترمیم سمجھ کر محفوظ بنایا ہے۔
اور پھر وہ حتمی سوال۔
حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے اداروں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ہمت رکھتا ہے، یا ہم تبدیلی سے صرف اس لیے گھبراتے رہیں گے کہ شور اٹھے گا؟ آئین کو جامد رکھ کر ریاست نہیں چلتی، ریاست کو چلانا ہو تو آئین کو حرکت میں رکھنا پڑتا ہے۔ ستائیسویں ترمیم ریاست کو وہ حرکت دیتی ہے جس کے بغیر ادارے ٹوٹتے نہیں، ٹھہر جاتے ہیں — اور رکاوٹ زوال سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ آج فیصلہ ہمارا ہے، کل فیصلے حالات کی فائل پر لکھے جائیں گے۔
