آئی ایم ایف سے ملنے والا 2 ارب ڈالرز قرضہ خطرے میں پڑ گیا

آئی ایم ایف نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے جس کے بعد پاکستان کو ملنے والی ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز قرضے کی اگلی دو اقساط خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو یاد دلایا ہے کہ معاہدے کے تحت حکومت نے قرضے کی اگلی قسط حاصل کرنے کے لیے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دینے کا وعدہ کیا تھا جس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا ریلیف کا اعلان سیاسی ہے کیونکہ انہیں اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات طے شدہ معاہدے پر پڑیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے وزیراعظم کی جانب سے ریلیف کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ اس ریلیف پیکج کے لیے حکومت کے پاس پیسہ کہاں سے آئے گا؟ یہ بھی۔پوچھا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا خسارہ کہاں سے پورا ہو گا؟ واضح رہے کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ہی 1371 ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جسے پورا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی بھی تب کی گئی ہے جب بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2476 ارب روپے تک جا پہنچا ہے اور حکومت کو گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھانا تھے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دس روپے فی لیٹر کمی اور بجلی کی قیمتوں میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ نئی قیمتوں کا اطلاق اگلے مالی سال کے بجٹ پیش ہونے تک رہے گا جو عموماً جون میں پیش کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان تب کیا گیا جب ملک کا مالی خسارہ گذشتہ مالی سال میں 1371 ارب تک جا پہنچا ہے جو ملکی آمدن اور اخراجات کا خسارہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستسن کے جاری کھاتوں کا خسارہ بھی جنوری 2022 میں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا جو رواں مالی سال کے اختتام تک 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ہے جو تیل کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے اپنی بلند ترین سطح کی جانب گامزن ہے۔

چنانچہ ائی ایم ایف نے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے ساتھ پالیسی کی سطح کی بات چیت کے حتمی مرحلے میں آئی ایم ایف اسٹاف مشن نے حکومت کے اعلان کردہ ریلیف اقدامات کے اثرات اور مالیاتی ضمانتوں پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں جس کے بعد قرضوں کی اگلی دو قسطیں خطرے میں پڑگئی ہیں۔

وزارت خزانہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف مشن صنعتی شعبے میں کالا دھن سفید کرنے کی وزیراعظم کی سکیم کے حق میں دیے گئے دلائل سے بالکل غیر مطمئن نظر آیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم کو آئی ایم ایف عہدیداروں نے کہا کہ ’آپ نے معاشی اور مالیاتی پالیسی کی ایک یادداشت تحریر کی اور اس پر دستخط کیے کہ اب مزید کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ نے چھٹے جائزے کے لیے حکومت کی جانب سے منظور کردہ منی بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس کا استثنیٰ ختم کر کے ٹیکس تفاوت واپس لینے کے اقدام کے باوجود تیسری ٹیکس استثنیٰ اسکیم پر تنقید کی۔ خیال رہے کہ چھٹے جائزے کے تحت کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کے لیے 9 ماہ سے تعطل کا شکار آئی ایم ایف پروگرام بحال ہوا تھا اور ایک ارب ڈالر کی قسط ملی تھی۔

آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو یاد دلایا ہے کہ معاہدے کے تحت وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کے تحریری بیانِ حلفی میں کہا گیا تھا کہ ’ہم مزید ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ دینے اور ٹیکس استثنیٰ یا مراعات کے اقدامات سے بچنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں‘۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی پر ماہانہ خرچ سوا کروڑ روپے

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے حکومتی ریلیف اقدامات کے نتیجے میں مرتب ہونے والے مالیاتی اثرات کا حساب کتاب لگایا ہوا تھا جو حکومت کے فراہم کر دہ تحمینوں اور اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تھا۔

اس کے علاوہ اطلاعات یہ بھی ہیں آئی ایم ایف مشن کے اراکین نے شعبہ توانائی کے اسٹیک ہولڈرز بشمول آئل کمپنیز اور ریفائنریز سے بھی ملاقاتیں کی تھیں اور مختلف اعداد و شمار اکٹھا کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ آنے سے قبل اپنا جائزہ مکمل کرنے سے کترا رہی ہے۔
two billion loan from the IMF is in jeopardy Urdu news

Back to top button