3 ارب 60 کروڑ میں دو PSL ٹیمیں: مالکان رقم کیسے پوری کریں گے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کی دو نئی ٹیمیں 3 ارب 60 کروڑ روپے سالانہ پر فروخت کیے جانے کے بعد عوامی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی بھاری سالانہ رقم ادا کرنے والے سرمایہ کار آخر یہ پیسہ پورا کیسے کریں گے؟ اس سوال کا سادہ اور مختصر جواب یہ ہے کہ جس طرح گزشتہ دس برسوں سے پی ایس ایل کی موجودہ چھ فرنچائزز نہ صرف اپنی فیس پوری کرتی آ رہی ہیں بلکہ منافع بھی کما رہی ہیں، بالکل اسی ماڈل کے تحت دو نئی ٹیمیں بھی اپنی سرمایہ کاری واپس نکالا کریں گی۔
یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کسی نجی کمپنی کی ملکیت نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت ہے۔ لیگ کا برانڈ، میڈیا رائٹس، مرکزی سپانسر شپس اور کمرشل رائٹس پی سی بی کے پاس ہیں۔ اس نظام کے تحت پی سی بی ہر سال سپر لیگ کے مقابلے سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے صرف پانچ فیصد اپنے پاس رکھتا ہے، جبکہ باقی 95 فیصد رقم پی ایس ایل کی فرنچائز ٹیموں میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہی ریونیو شیئرنگ ماڈل فرنچائزز کے لیے مالی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
حال ہی میں پی ایس ایل کی تاریخ میں فرنچائز نیلامی کے دوران تب ایک نیا مالی ریکارڈ قائم ہوا جب حیدر آباد اور سیالکوٹ نامی دو نئی ٹیمیں پرانی پانچ ٹیموں کی ٹوٹل سالانہ فیس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہوئیں۔حیدر آباد اور سیالکوٹ کی دو نئی فرنچائزز مجموعی طور پر 3 ارب 60 کروڑ روپے کے عوض فروخت ہوئیں، جو کسی بھی نیلامی میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس ریکارڈ نیلامی نے پی ایس ایل کی مجموعی مالی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ کرتے ہوئے سپر لیگ کی کمرشل ویلیو کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حیدر آباد کی ٹیم اگلے دس برس تک سالانہ 175 کروڑ روپے جبکہ سیالکوٹ کی ٹیم 185 کروڑ روپے سالانہ فیس ادا کرے گی۔ یوں دونوں نئی فرنچائزز کی مجموعی سالانہ فیس 360 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں لاہور قلندرز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مجموعی سالانہ فیس 264 کروڑ روپے ہے۔ اس طرح صرف دو نئی ٹیموں کی فیس باقی پانچ ٹیموں سے 34 فیصد زیادہ ہے، جو پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی قدر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد فرنچائز معاہدوں کے تحت موجودہ ٹیموں کی نئی ویلیوایشن بھی سامنے آ چکی ہے، جس کے مطابق پرانی فرنچائزز کو اپنی سالانہ فیس میں نئی مارکیٹ ویلیو کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ادائیگی کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ نئی ترتیب کے تحت لاہور قلندرز کی سالانہ فرنچائز فیس 67 کروڑ روپے، کراچی کنگز کی 63 کروڑ 87 لاکھ روپے، پشاور زلمی کی 48 کروڑ 75 لاکھ روپے، اسلام آباد یونائیٹڈ کی 47 کروڑ روپے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی 35 کروڑ 95 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس فہرست میں لاہور قلندرز مالی اعتبار سے سب سے مہنگی جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کم ترین ویلیو رکھنے والی فرنچائز قرار پائی ہے۔ اسی لیے ملتان سلطان کے مالک علی سلطان نے 10 سال مکمل ہونے پر اپنی ٹیم دوبارہ خریدنے کی بجائے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ علی ترین 10 سال بعد ہونے والی نئی نیلامی میں ٹیم کو سستا خریدنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ایک برس پہلے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف سوشل میڈیا پر کیمپین چلا دی تھی۔ تاہم موصوف اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو پائے اور اخری لمحے بولی سے فرار ہو گئے۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ نئی ٹیمیں پرانی ٹیموں کے مقابلے میں اتنی مہنگی کیوں ہیں اور ماضی میں فرنچائزز اتنے کم داموں کیوں فروخت کی گئیں؟ ان سوالات کا جواب پی ایس ایل کی تاریخ اور اس کے بزنس ماڈل کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔ سال 2016 میں جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تو پانچ ٹیمیں لیگ کا حصہ تھیں، جبکہ 2018 میں ملتان سلطان نامی ٹیم شامل کی گئی۔ لاہور قلندرز 2.3 ملین ڈالرز، کراچی کنگز 2.2 ملین ڈالرز، پشاور زلمی 1.7 ملین ڈالرز، اسلام آباد یونائیٹڈ 1.7 ملین ڈالرز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 1.7 ملین ڈالر اور ملتان سلطانز 6.3 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی تھیں۔ یہ رقم دراصل سالانہ فرنچائز فیس تھی جو ٹیموں کو ہر سال پی سی بی کو ادا کرنا ہوتی ہے۔
یعنی پی ایس ایل کی فرنچائز فیس ایک سالانہ فیس ہے۔ پی سی بی کی آمدن کے چار بڑے ذرائع ہیں جن میں سب سے اہم فرنچائز فیس ہے جو مکمل طور پر یقینی آمدن ہوتی ہے۔ پرانی ٹیموں سے پی سی بی کو تقریباً 11 سے 12 ملین ڈالرز جبکہ نئی ٹیموں سے تقریباً 12.7 ملین ڈالرز سالانہ حاصل ہوں گے، یوں مجموعی فرنچائز فیس 24 سے 25 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رائٹس پی سی بی کی سب سے بڑی آمدن ہیں، جنکے علاوہ سپانسر شپس اور ٹکٹوں کی فروخت سے بھی رقم آتی ہے۔
پی ایس ایل کی ٹیموں کو براہِ راست میڈیا رائٹس نہیں ملتے بلکہ پی سی بی انہیں میڈیا رائٹس اور سپانسرشپس سے حاصل شدہ آمدن میں سے ریونیو شیئر فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرنچائزز اپنی جرسی سپانسرشپس اور مقامی معاہدوں سے بھی آمدن حاصل کرتی ہیں۔ کسی بھی ٹیم کو پی ایس ایل جیتنے سے براہِ راست مالی فائدہ محدود ہوتا ہے، تاہم اصل فائدہ شہرت، برانڈ ویلیو اور مستقبل کی کمرشل ڈیلز کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
نئی ٹیموں کی فروخت سے PSL کی کمرشل ویلیو میں ہوشربا اضافہ
پی ایس ایل کی پرانی ٹیموں کی فرنچائز فیس کم ہونے کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر سوالات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا جواب یہ ہے کہ پرانی ٹیموں نے ابتدائی دور میں معاہدے کیے تھے، جب سپر لیگ نئی تھی، رسک زیادہ تھا اور کامیابی غیر یقینی سمجھی جاتی تھی۔ اب جبکہ پی ایس ایل مستحکم اور کامیاب لیگ بن چکی ہے، تو نئی ٹیموں سے مارکیٹ ریٹ کے مطابق فیس وصول کی جا رہی ہے۔ یہ نظام بظاہر غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے، لیکن دنیا کی تمام بڑی سپورٹس لیگز میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دو نئی فرنچائزز کی نیلامی دراصل پاکستانی کرکٹ کے مستقبل پر کیا گیا ایک مہنگا مگر پُراعتماد سرمایہ کاری کا فیصلہ ہے، جس کے مثبت نتائج آئندہ چند برسوں میں واضح ہو جائیں گے۔
