امریکی صدر نے ایران کی نئی قیادت کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دیدی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کپا ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے کو سپریم لیڈر بناکر ایران نے بڑی غلطی کی، اب تک سامنے آنے والی ایرانی نئی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ آنے والی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں اب تک سامنے آنے والی نئی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ آنے والی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کر رہے ہیں اور ایرانی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے تقریباً پانچ ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جہاز اب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں اور ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت کو بھی بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا تھا، جو عالمی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کو دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں انہوں نے امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جبکہ دوسری مدت میں اسی طاقت کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اب پوری دنیا کو اس کی طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے۔
