انڈیا سے معاہدے کے بعد UAE پاکستانی ایئرپورٹ لینے سے انکاری

 

 

 

متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کے بعد پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام و آپریشن کو یو اے ای کے حوالے کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ اس حکومتی فیصلے کے بعد سفارتی حلقوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں پاکستان اور یو اے ای کے مابین باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری معاہدے کے رد عمل میں بھارتی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسی نوعیت کا ایک دفاعی شراکت داری کا معاہدہ کر لیا ہے۔ نئی دہلی کے اس فیصلے کو خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صف بندیوں اور طاقت کے توازن میں پیچھے رہنے سے بچنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان نے اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشن اور انتظام کے لیے دی جانے والی مجوزہ ڈیل سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ جسے سفارتی حلقے ایک اہم اور حساس فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ بارے دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک اس وقت پیدا ہوا جب یو اے ای بارہا یاددہانی کے باوجود اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے اپنے کسی ادارے کو نامزد کرنے میں ناکام رہا۔ اس صورتحال کے بعد حکومت نے پی آئی اے کی حالیہ کامیاب نجکاری کے تناظر میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ ابتدا میں یو اے ای نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم اس نے اس عمل کیلئے کسی نامزد ادارے کا نام فراہم نہیں کیا تھا، جو اس امر کی علامت ہے کہ یو اے ای عملی طور پر اس منصوبے میں مزید پیش رفت کا خواہاں نہیں تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے یو اے ای کو حتمی جواب کے لیے ایک آخری یاددہانی خط بھی ارسال کیا، جس کے جواب میں یو اے ای نے آگاہ کیا کہ وہ تاحال کسی ادارے کو نامزد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ نتیجتاً حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

پاکستان سے تجارت کرنے والے افغانی کنگال کیوں ہو گئے؟

خیال رہے کہ اس سے قبل حکومت پاکستان نے یو اے ای کی اس درخواست کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا جس میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کو مجوزہ جی ٹو جی یعنی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح ابو ظبی اور پاکستان کے درمیان فضائی رابطوں کی نجکاری سے متعلق یو اے ای کی درخواست کو بھی حکومتی سطح پر حمایت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور متعلقہ وزارت کو ہدایت کی گئی تھی کہ صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے یو اے ای سے رابطے جاری رکھے جائیں۔ جس کے بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور یو اے ای حکام کے مابین معاہدوں کے متعدد ڈرافٹس کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ابو ظبی کا دورہ کیا اور یو اے ای حکام سے ملاقاتیں کیں تاکہ فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ تاہم اب یو اے ای حکومت کی جانب سے بھارت سے دفاعی معاہدہ کرنے کے بعد متعلقہ حکام نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجوزہ جی ٹو جی فریم ورک کے تحت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا عمل بند کرنے کی سفارش کر دی ہے.

Back to top button