روس کے خلاف یوکرینی صدر کا مؤثر ترین ہتھیار کام کر گیا

روس کی جانب سے حملے کے بعد یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی جوابی طور پر ایک ایسا مؤثر ہتھیار استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کی روسی صدر پوٹن کو بالکل بھی امید نہیں تھی۔ جی ہاں! آپ جو سن رہے ہیں وہ سچ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یوکرین کے صدر نے روس کے خلاف کوئی میزائل یا بم استعمال نہیں کیا بلکہ ایک عام سی چیز استعمال کی جسکا نام ہے ٹیلیفون۔ روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کے محاصرے کے دوران صدر زیلنسکی نے لگاتار فون کالز کر کے مغربی ممالک کو روس کے خلاف ان سخت ترین معاشی پابندیوں کے نفاذ کے لیے آمادہ کیا، جس کی ایک ہفتے قبل توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔

اداکاری سے سیاست کی طرف آ کر یوکرین کے صدر بن جانے والے زیلنسکی نے روسی حملے کے فوری بعد امریکہ کی جانب سے ملک سے نکل جانے کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے مغربی رہنماؤں سے فون پر رابطے کیے اور ان سے روس پر معاشی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا، اسکے علاوہ انہوں نے روس کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے اپنی ٹوئٹر فیڈ کو استعمال کیا۔ اس عمل کے دوران روس پر جو پابندیاں ایک ہفتے قبل ناقابل تصور سمجھی جا رہی تھیں، وہ اب عائد کی جا چکی ہیں۔

روس اور یوکرین کے تنازعے پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے مغرب نے روس پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا، وہ ناقابل یقین ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے صدر زیلنسکی یوکرین کو بچا نہ سکیں، لیکن وہ یورپ کو روس کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے بے چینی کا شکار

یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے 26 فروری کو اپنے فون کے ذریعے روس مخالف سفارتی محاذ کھولا اور فرانس کے صدر کو کال سے آغاز کیا۔ جیسے جیسے دن آگے بڑھا انہوں نے یورپین کمیشن کے صدر، اٹلی کے وزیراعظم، سوئٹزر لینڈ کے صدر، بھارت کے وزیرعظم، ترکی کے صدر، آذربائیجان کے صدر، ڈچ وزیراعظم، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، جرمنی کے چانسلر، پوپ، چیک ری پبلک کے وزیراعظم، پولینڈ کے وزیراعظم اور سب سے آخر میں برطانیہ کے وزیر اعظم سے بات کی۔ انہوں نے اگلے روز بھی اسی طرح کی کالز کیں اور پوری توجہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور روس پر سخت پابندیاں لگانے پر مرکوز کی۔

ان کی فون کالز نے یوکرینی صدر کو عوامی رائے عامہ اپنے حق میں کرنے میں مدد ملی جس کے نتائج سامنے آرہے ہیں اور روس سخت ترین معاشی پابندیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ جرمنی نے ایک ہفتے میں جس طرح 180 ڈگری کا ٹرن لیتے ہوئے یوکرین کو اسلحے کی فروخت، جی ڈی پی کے 2 فیصد حصے کو دفاع پر خرچ کرنے اور روس سوئفٹ نظام سے روس کو نکالنے پر اتفاق کیا.

وہ نہ صرف عالمی پالیسیوں میں غیرمعمولی تبدیلیاں ہیں بلکہ یہ دوسری جنگ عظیم کی ذہنیت میں تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔ اسی طرح اٹلی نے بھی زیلنسکی کی کال کے بعد اس مسئلے کے طویل المعیاد حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس نے حملہ نہ روکا تو اٹلی اسے گیس کی خریداری روک دے گا۔ اطالوی وزیراعظم کے دفتر نے تسلیم کیا کہ یوکرینی صدر کی سوجھ بوجھ اور روس کے غرور نے ممالک جیسے برطانیہ، کینیڈا اور فرانس نے دیگر کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ وہ روس کو سوئفٹ پیمنٹ سسٹمز سے نکال باہر کریں۔

مگر جس تباہ کن ترین قدم پر غور کیا گیا وہ یوکرینی صدر کی مسلسل لابنگ کا براہ راست نتیجہ نہیں تھی۔
کچھ یورپی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ روس کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو غیرمتوقع طور پر منجمد کرنا، جو روس کا سب سے اہم مالیاتی ادارہ ہے، روسی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا۔ ایک یورپی عہدیدار نے تسلیم کای کہ یوکرینی فوج کی جانب سے خود سے زیادہ طاقتور روسی فوج کو روک پانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، مگر حقیقی مقصد وہ سیاسی اور معاشی قیمت ہے جو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹین کو چکانا پڑے گی جس سے انہیں احساس ہوگا کہ وہ اپنی شرائط پر جیت نہیں سکتے۔

Back to top button