اقوام متحدہ: ایرانی حملوں کیخلاف 100 سے زائد ممالک کی حمایت یافتہ قرار داد منظور

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی۔ قرارداد میں ایران کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی ہے۔
اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔
ایران ڈیل چاہتا ہے مگر عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
مزید برآں، قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 100 سے زائد ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
