اقوام متحدہ نے 22 اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں عائد کر دیں

اقوام متحدہ نے افغان طالبان کو عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے22 طالبان ارکان پر پابندیاں عائد کردیں۔

افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے طالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیر مقدم کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22 اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں لگائیں جو کہ انتہائی اہم اقدام ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے کہا کہ یہ پابندیاں ثبوت ہے کہ افغان طالبان ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اب بھی شدید خطرہ ہیں۔

ہشت صبح کے مطابق پابندیوں میں افغان عبوری وزیراعظم محمد حسن اخوند، وزیر خارجہ سراج الدین حقانی سمیت کئی سینیئر عہدیدار شامل ہیں۔ برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق اپنی طالبان پر پابندیوں کی فہرست کی توثیق کی ہے۔

افغان جریدے کے مطابق برطانیہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر عائد پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا۔ برطانوی بیان کے مطابق طالبان اب بھی امن کیلئے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک ریاست کے بجائے عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔

Back to top button