بشری بی بی کی گرفتاری کی غیر مصدقہ اطلاعات

سابق خاتون اول بشری بی بی اور وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی غیرمصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ابھی تک سرکاری طور پر ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی رینجرز کا کریک ڈاؤن شروع ہونے کے فورا بعد ایک ہی گاڑی میں ڈی چوک سے فرار ہو گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں نے کافی دیر تک ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور پھر انہیں حراست میں لے لیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں پر چار رینجرز اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ بھی چلے گا۔

تاہم دوسری جانب جیو ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ بشری بی بی کی گاڑی پیر سہاوا کے راستے خیبر پختون خواہ میں داخل ہو گئی ہے اور ان کی گرفتاری کی خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل رینجرز اور پولیس کے دستوں نے ڈی چوک میں  پی ٹی آئی شرپسندوں کیخلاف بڑے پیمانے پرآپریشن کا آغاز کیا تھا۔جس کے دوران آنسو گیس کا استعمال کیاگیااور فائرنگ کرنیوالے پی ٹی آئی مظاہرین کوجوابی فائرنگ کا نشانہ بنایاگیا۔جس میں درجنوں شرپسندوں کےزخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اس حوالے سے باخبرذرائع نے بتایا تھا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے رینجرز اورپولیس کے دستوں نے لاؤڈ سپیکر پرپی ٹی آئی مظاہرین کو منتشرہونے کا وقت دیا۔جس کے بعد ڈی چوک کی بتیاں بجھا کرآپریشن کا آغاز کیاگیا۔

تاہم اطلاعات کے مطابق پولیس اور رینجرز کے دستوں نے پی ٹی آئی  مظاہرین سے ڈی چوک اور جناح ایونیوخالی کروالیاہے اور انہیں چائنہ چوک کے قریب خیبرپلازہ تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اگرمظاہرین نے منتشرہونے کےبجائے دوبارہ آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پاک فوج کے دستے بھی حرکت میں آ جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں 10ہزارسےزائدمظاہرین ڈی چوک تک پہنچ گئے تھےاور ریڈزون میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔جس کے بعد رینجرز اور پولیس کے ذریعےکریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ آپریشن سے 2گھنٹے پہلے وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دھرنامظاہرین یاان کی قیادت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گےاور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

Back to top button