پی ٹی آئی کا ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک

وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے جبکہ جے یو آئی بھی اپنے ڈنڈے تیل سے نکالے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست اور وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پرچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔
صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالات پر رائے مانگی گئی ہے، پہلے نمبر پر کہ کیا کوئی رکن اسمبلی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ دے تو کیا اس رکن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی؟ اسے ڈی سیٹ نہیں کیا جا سکتا؟۔ دوسرا یہ کہ کیا ایسے رکن جو پارٹی پالیسی سے انحراف کریں اور پالیسی کے خلاف ووٹ دیں تو کیا ان کے ووٹ کو شمار کیا جائے گا؟۔
تیسرے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا جو وفاداری تبدیل کرتے ہوئے رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جائے اور ثابت ہو کہ اس نے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی ہے تو کیا اسے رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟ جبکہ چوتھے سوال میں عدالت سے رائے مانگی گئی ہے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کو روکنے کے لیے موجودہ آئینی ڈھانچے میں کون سے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں جس سے فلور کراسنگ کو روکا جاسکے۔
گزشتہ ہفتے ہونیوالی پہلی سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ اسے تحریک عدم اعتماد کے لیے اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلانے کے معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں، عدالت کے سامنے صرف بار کی درخواست اور آرٹیکل63اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر پیر کوسماعت کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے سپیکر کی جانب سے اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلانے کے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتےہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کو 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست اور صدارتی ریفرنس کی اکٹھی سماعت کے لیے پانچ لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے چیف جسٹس کے نام ایک خط لکھ کر اپنے شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔
