لاہور اور اسلام آباد میں 5 انچ تک برف باری ہونے کا امکان؟

ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید سردی کی لہر کے دوران لاہور اور اسلام آباد میں رواں ماہ کے آخر میں برف باری بارے متضاد خبروں نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے، جہاں بعض ماہرین صدی میں ایک بار سامنے آنے والے سائبیرین ہواؤں کے طاقتور ریلے کے باعث پاکستان میں غیر معمولی حد تک درجہ حرارت میں کمی اور لاہور میں 4 سے 5 انچ تک برفباری کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں وہیں بعض دیگر موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہر سال کی طرح اس سال بھی گمراہ کن الرٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ فی الوقت ایسا کوئی موسمی نظام پاکستان میں داخل نہیں ہو رہا جس کے نتیجے میں لاہور یا اسلام آباد میں برف باری کا امکان ہو یا عوام کے لیے کسی غیر معمولی پریشانی کا باعث بن سکے۔
خیال رہے کہ عالمی موسمی ماڈلز یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس کی پیشگوئیوں کے مطابق 16 جنوری سے 25 جنوری 2026 کے درمیان ایک غیر معمولی سرمائی نظام پاکستان کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ اس کی شدت 20 جنوری سے 25 جنوری کے دوران عروج پر ہونے کا امکان ہے۔ جس کے نتیجے میں لاہور میں 5 انچ تک برفباری ہو سکتی ہے، جو شہر کی تاریخ میں نہایت نایاب واقعہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق فضائی دباؤ میں تبدیلی، جیٹ اسٹریم کی آمد اور مغربی ہواؤں کے متعدد سلسلے پہلے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ پیدا کریں گے، جس کے بعد ایک طاقتور کم دباؤ کا نظام وسطی ایشیا اور سائبیریا سے شدید سرد ہوائیں پاکستان میں داخل کرے گا۔جس کے نتیجے میں کم سے کم درجہ حرارت مائنس 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے مائنس 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے جبکہ دن کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی تو لاہور میں 1878 کے بعد پہلی بار برفباری ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شدید سردی کی لہر کا اثر پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ کے نچلے علاقوں اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں محسوس کیا جائے گا۔ کئی ایسے علاقے جہاں عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے نہیں جاتا، وہاں بھی منفی درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری علاقوں میں بھی برفباری ہو سکتی ہے اور درجہ حرارت مائنس 5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے جا سکتا ہے۔ مری میں درجہ حرارت مائنس 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے اور 2 سے 4 فٹ تک شدید برفباری کا امکان موجود ہے۔ کوئٹہ میں درجہ حرارت مائنس15 سے مائنس 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جہاں تیز ہواؤں کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ کراچی میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو آخری بار 1929 میں ریکارڈ ہوا تھا۔ گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، ایبٹ آباد، مظفرآباد اور پشاور میں بھی برف یا ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شدید ٹھنڈ، برف باری اور سخت پالا پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور ماہرین نے بلوچستان کے لیے 21 سے 25 جنوری کے دوران شدید سردی اور تیز ہواؤں کی وارننگ جاری کردی ہے اور شہریوں کو فراسٹ بائٹ اور سفر کے دوران خطرات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل المدتی پیشگوئی ہے اور حالات کے قریب آنے پر مزید اپڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے افواہوں کا بازار گرم ہے۔ ’ہوشیار، خبردار! آئندہ چند روز میں یخ بستہ ہوائیں، بارش اور طوفان، پہاڑی علاقوں سمیت کئی میدانی علاقوں میں برف باری، درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے اور پاکستان میں دہائیوں کا ریکارڈ توڑتی سردی ۔۔۔‘ اس نوعیت کے مختلف پیغامات اتوار کی دوپہر سے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا پر گردش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان میں سندھ سے لے کر بلوچستان اور پنجاب سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بارش، ژالہ باری اور برف باری کے دعوے موجود ہیں۔ ایسا ہی ایک پیغام سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک انتہائی سخت سائبرین موسمیاتی نظام کے پاکستان میں داخل ہونے کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے۔
کراچی میں PTI کی پیپلز پارٹی سے محبت انجام کو کیسے پہنچی؟
تاہم چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر بابر ان تمام دعوؤں اور پیشگوئیوں کی واضح طور پر تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح رواں برس بھی شدید سردی کے حوالے سے گمراہ کن الرٹس سوشل میڈیا پر وائرل کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی موسمی نظام پاکستان کی جانب نہیں آ رہا جو آئندہ دنوں میں لاہور یا اسلام آباد میں برفباری یا ریکارڈ توڑ سردی کا سبب بن سکے۔ ان کے مطابق اگر اسلام آباد کی بات کی جائے تو 11 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک ضرور پہنچا، تاہم جنوری کے دوران اب تک درجہ حرارت منفی سطح پر نہیں گیا۔ ڈاکٹر ظہیر بابر نے مزید بتایا کہ چند برس قبل شدید موسم کے دوران مارگلہ کی پہاڑی چوٹی پر ہلکی برفباری ضرور ہوئی تھی، لیکن اس وقت ملک میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو ایسی صورتحال کو جنم دے سکے۔ دوسری جانب جب سوشل میڈیا صارفین نے گروک سے لاہور میں برفباری کے حوالے سے سوال کیا اور انہیں جواب ملا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ایسی کوئی پیشگوئی فی الحال موجود نہیں، جبکہ محکمہ موسمیات بھی آئندہ دنوں میں کسی بڑی موسمیاتی تبدیلی یا برفباری کی پیشگوئی کرتا دکھائی نہیں دیتا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ آنے والے دنوں میں سردی کی شدت برقرار رہ سکتی ہے، تاہم لاہور اور اسلام آباد میں برفباری کے امکانات فی الحال معدوم ہیں۔
