امریکا کا ایران پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کا الزام

امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں نصب کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے خفیہ معلومات کی بنا پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی افواج نے بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھنے والے بڑے ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد ایران نے اب اس مقصد کے لیے چھوٹی کشتیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے پاس سیکڑوں تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں، جنہیں ماضی میں بڑے بحری جہازوں، حتیٰ کہ امریکی بحریہ کے جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور اب انہی کشتیوں کو اس کارروائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل نسبتاً سست ہے اور اس کی مؤثریت بھی محدود ہے، تاہم ایران کی کوشش ہے کہ وہ بارودی سرنگوں کو اس رفتار سے نصب کرے کہ انہیں صاف کرنے کی کارروائی سے زیادہ تیزی برقرار رہے، تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں مزید رکاوٹ ڈالی جا سکے۔

پاسدارانِ انقلاب کا یو ایس ایس ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث سمندری تجارت متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button